اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لئے ان کے نامزد امیدوار اعظم سواتی کے حق میں جماعتِ اسلامی (جے آئی) دو سینیٹرز نے حمایت اعلان کردیا۔

اس حوالے سے جے آئی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ’ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں‘ اس لیے ہم نے اعظم سواتی کو سینیٹ اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یہ پڑھیں: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے33 اراکین کی حمایت ہے، شیری رحمٰن

لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے امیدوار کی حمایت نہیں کر سکتے تاہم پی ٹی آئی قیادت کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ جے آئی سینیٹ میں آزاد حیثیت قائم رکھے گی اور کسی اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے اور اعظم سواتی کی جے آئی کے سینیٹر سراج الحق سے ملاقات فیصلہ سامنے آیا۔

جے آئی کی حمایت کے بعد پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ انہیں 20 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے دوسری امیدوار پی پی پی کی شیری رحمٰن ہیں جنہوں نے نشست کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 33 سینیٹز کے دستخط پر مشتمل ایک فہرست بھی جمع کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف آمنے سامنے

رواں کی 16 تاریخ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے 33 سینیٹرز نے میری حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بھی بات چیت کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودہری نے دعوی کیا تھا کہ پی پی پی اور پی ٹی آئی کے 20-20 اراکینِ سینیٹ ہیں اور آزاد سینیٹرز کو فیصلہ منظر عام پر آنا باقی ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا تھا کہ جے آئی، متحدہ قومی موومنٹ نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

خیال ہے کہ 15 مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے بہادر آباد گروپ نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: شیری رحمٰن سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بن جائیں گی، خورشید شاہ

کراچی میں ایم کیو ایم بہادر آباد کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہوں نے پچھلے 10 سال میں دیہی سندھ کو تباہ کردیا۔

فیصل سبزواری نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہاتھا کہ سندھ میں پی پی پی کی نااہل حکومت کی وجہ سے عوام متاثر ہیں اور سندھ میں بدعنوانی سے پاک حکومت لانا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عمران اسمٰعیل نے کہا تھا کہ ’ایم کیو ایم سے اتحاد غیرآئینی نہیں بلکہ جمہوریت کے تقاضے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کا راستہ روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ان کی لوٹ گھسوٹ سے پورا سندھ متاثر ہو رہا ہے۔


یہ خبر 22 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں