سپریم کورٹ میں تارکین وطن پاکستانیوں سے قومی شناختی کارڈ کی مد میں زائد وصولیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ تارکین وطن کو شناخت کارڈ کی مد میں زائد وصولیوں سے متعلق کیس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ آئے آپ کو غصہ تو نہیں آیا جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نہیں جی ہم نے کدھر جانا ہے۔

احسن اقبال نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری بھی ایک درخواست ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نارووال میں ہم نے لڑکیوں اور لڑکوں کا سکول بنایا تھا تاہم ہائی کورٹ کے ایک جج نے اسکول کی تعمیر کے خلاف حکم امتناع دے رکھی ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر داخلہ سے کہا کہ ہمیں فائل نمبر بتائیں، ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ عدالتوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، عدالتیں حکومت اور عوام کی دولت ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تارکین وطن پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔

انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن کو عام انتخاب سے قبل تارکین وطن کو ووٹ کا حق دیں۔

بعدازاں عدالت نے وفاقی حکومت سے تارکین وطن کو شناختی کارڈ سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وفاقی وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کیا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیئرمین نادرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ آپ کی سمری پر قیمتیں کم نہیں کرنا چاہتے ہیں تو ہم کمیشن بنا کر خود قیمتیں کم کر دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ سال قبل جو دفاتر کھولے گئے تھے ان کے اخراجات بھی تارکین وطن پاکستانیوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ وزیر داخلہ عدالت کو بتائیں کہ چیئرمین نادرا کی سمری اب تک منظور کیوں نہیں کی گئی۔