گندگی سے جنازہ لے جانے کا معاملہ: وزیر تعلیم، رکن قومی اسمبلی سپریم کورٹ طلب

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2018

ای میل

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے گٹر کے گندے پانی پر سے گزرتے جنازے کی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصویر میں شہریوں کی حالت زار پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر تعلیم رضا علی گیلانی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی راؤ اجمل خان اور میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس نے رواں ہفتے ایک کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کی توجہ ایک تصویر کی طرف دلاتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ جنازہ پڑنے جا رہے ہیں اور ناپاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا تھا کہ یہ تصویر کس شہر کی ہے۔

آج سپریم کورٹ میں ہونے والی از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ تصویر کی جگہ کی شناخت ہو چکی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بلدیاتی حکومت کو لوگوں کی فلاح کے لیے کام کرنا ہے، جو لوگ جنازے کو گندے علاقے سے لے کر گئے ان کے کپڑے گندے ہو گئے ہوں گے، اس کا کون ذمہ دار ہے؟

علاقائی کونسلر نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور جنازہ گاہ پر بھی قبضہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش ہونے والی تصویر ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مکیم وارڈ نمبر 113 کی ہے اور وہاں کے رکن قومی اسمبلی راؤ اجمل خان ہیں۔

علاقائی کونسلر نے بتایا کہ اس علاقے میں سید زوالفقار حیدر شاہ میونسپل کمیٹی کے چئیر مین ہیں اور یہ پی پی 187 حلقہ ہے۔

چیف جسٹس نے علاقائی کونسلر سے سوال کیا کہ میونسپل کمیٹی کا بجٹ کتنا ملا ہے جس پر اہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں ماہانہ 15 لاکھ روپے مل رہا ہے اور علاقے کے مجموعی آبادی 76 ہزار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور لوکل گورنمنٹ کے منتخب افراد کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

عدالت نے صوبائی وزیر تعلیم رضا علی گیلانی، رکن قومی اسمبلی راؤ اجمل خان اور میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام افراد پیش ہو کر وضاحت دیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے مقامی کونسلر کو شکایات تحریری طور پر پیش کرنے کا بھی حکم جاری کردیا گیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت 29 مارچ تک ملتوی کردی