خیبر پختونخوا: اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم کیلئے نیا منصوبہ

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2018

ای میل

پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم برائے پرائمری اور سیکنڈری اسکول نے صوبے بھر کی تعلیمی درسگاہوں میں بہتر تدریسی نتائج، جدید خطوط پر طرز تعلیم اور کلاس روم کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ’اسکول کوالیٹی منیجمنٹ انیشیوٹیو (ایس کیو ایم آئی)‘ متعارف کرادیا۔

اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ ایس کیو ایم آئی منصوبے سے اسکولوں میں معائدے کا عمل سخت اور بہتر ہوگا۔

یہ پڑھیں: خیبر پختونخوا کابینہ کی ’لازمی تعلیم ایکٹ‘ کی منظوری

مذکورہ منصوبہ استاد اور ہیڈ ماسٹر کو تعلیمی نظام، نگرانی، تشخیص اور سیکھنے کے ماحول کے حوالے سے رائے فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ 5 برس میں 30 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کر چکی ہے، رقم اسکول میں کمرے بنانے، اسکول کی بیرونی عمارت تعمیر کرانے، بجلی کی فراہمی، واش روم کی تعمیر اور پینے کا پانی جیسی سہولت پر خرچ کی گئی۔

تعلیم کے شعبے سے وابستہ سماجی تنظیم الف اعلان کے حالیہ سروے کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اسکولوں کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ خرچ کیا لیکن معیاری تعلیم کے حوالے سے یہ صوبہ تاحال پنجاب اور سندھ سے پیچھے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کابینہ نے مفت تعلیم ایکٹ کی منظوری دیدی

محکمہ تعلیم کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 500 اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کو انڈرائیڈ موبائل فراہم کرے گی جو اپنے متعلقہ علاقے میں موجود سرکاری اسکولوں کا دورہ کرکے طالبعلم، اساتذہ اور کلاس رومز سے ڈیٹا جمع کریں گے۔

تاہم اس ضمن میں ایجوکیشن افسران کو موبائل فون میں موجود ایپ کے استعمال کی ٹریننگ دی جا چکی ہے تاکہ پرائمری اور ثانوی اسکولوں کا ڈیٹا آسانی سے جمع کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ایجوکیشن افسران اسکول میں اردو، انگریزی اور ریاضی کے طالبعلموں کا ڈیٹا جمع کریں گے۔

مزید پڑھیں: تعلیمی معیار میں پنجاب تیسرے،خیبرپختونخوا پانچویں نمبر پر ہے،رپورٹ

حکام نے بتایا کہ ایس کیو ایم آئی منصوبہ 2017 میں ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ سے تجرباتی بنیادیوں پر شروع ہوا جسے صوبوں کے دیگر اضلاع میں بھی توسیع دی جائے گی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’ایس کیو ایم آئی کا منصوبہ میڈل، ہائی اور ہائیر سکینڈری اسکولوں میں بھی لانے کی تجویز زیر غور ہے‘۔