اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ تعمیرات کیس میں آئندہ سماعت تک راول جھیل کی دیکھ بھال سمیت تمام مسائل کا حل اور تجاویز طلب کر لیں جبکہ لیز پر لی گئی 11 زمینوں کے مالکان کو نوٹسز بھی جاری کر دیے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ تعمیرات و تجاوزات کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے رابطہ نہیں ہو سکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آج ہی کیس کو نمٹانا چاہتے تھے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ایک مسئلہ بوٹینیکل گارڈن میں تجاوزات اور دوسرا غیر قانونی تعمیرات کا ہے، جو تعمیرات ہو چکی انہیں ریگولر کریں یا جرمانے کریں۔

مزید پڑھیں: بنی گالہ اراضی: عمران خان کا جمائمہ کے حلف نامے سے اظہارلاعلمی

انہوں نے کہا کہ تیسرا اور اصل ایشو راول ڈیم کو گندے پانی سے بچانا ہے اور اس کیس کو التوا میں نہیں ڈال سکتے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ طارق فضل چوہدری ملک سے باہر ہیں لہٰذا کیس میں دلائل دینے کے لیے انہیں مہلت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس وقت ہی تو نہیں ہے اسی لیے تمام فریق بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔

چئیرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کو ریگولر کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو خط لکھیں گے، جس کے لیے پہلے سروے کرنا پڑے گا جبکہ راول ڈیم کو آلودہ پانی سے بچانے کے لیے مقامی مکینوں کو گھروں میں سیپٹک ٹینک بنانے ہوں گے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سیپٹک ٹینک بنانا عارضی حل ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ خط کے بجائے خود مل لیں، کیونکہ ہر چیز کا حل موجود ہے اور کام کرنے کا عزم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بنی گالہ میں 20 برس کی تعمیرات کا ریکارڈ طلب

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذمہ داران مسائل کا حل لائیں ورنہ قانون خود اپنا راستہ بنالے گا، کیوں نا رانا ثنا اللہ کو بلا لیں، کیونکہ مرکز اور صوبے میں انہی کی حکومت ہے۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مفاد عامہ کے مقدمات التوا میں نہیں رہنے دیں گے۔

عدالتِ عظمیٰ نے بنی گالہ میں لیز پر لی گئی 11 زمینوں کے مالکان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اپریل تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ 13 فروری کو سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی عمران خان کو بنی گالا میں تعمیر اپنی 300 کنال کی رہائش گاہ کا منظور شدہ سائٹ پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عمران خان کے وکیل کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے کے بعد 22 فروری کو کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ بنی گالا میں عمران خان کے گھر کی تعمیر کا سائٹ پلان منظور شدہ نہیں۔

بعد ازاں 28 فروری کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عمران خان کے بنی گالہ گھر کی تعمیرات کے معاملے پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس کے مطابق سابق سیکرٹری یونین کونسل (یو سی) نے بنی گالا گھر کے این او سی کو جعلی قرار دے دیا تھا۔

6 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ہماری نظر میں عمران خان کی رہائش گاہ غیر قانونی ہے۔

خیال رہے کہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق نیشنل پارک کی تجویز 1960 میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ تھی، جو یونانی آرکیٹیکچر کانسٹینٹ تینس اپوستولس ڈوکسڈز نے دی تھی، اس تجویز کے تحت آج جس جگہ بنی گالا واقع ہے، وہیں ایک بہت بڑا درختوں سے بھرا پارک بنایا جانا تھا۔

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ بنی گالا عمران خان اور عبدالقدیر خان جیسے نامور لوگوں کی رہائش گاہ بننے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد کے لیے مجوزہ نیشنل پارک کے لیے مختص کی جانے والی جگہ ہے۔