سپریم کورٹ کا حسین حقانی کی واپسی سے متعلق حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے امریکا میں مقیم پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے سے متعلق حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میموگیٹ اسکینڈل کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا اور درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے کے نمائندے سے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو واپس لانے کے لیے کیا پیش رفت ہوئی، جس پر تحقیقاتی ادارے کے نمائندے نے بتایا کہ وزیر خارجہ اور وزارت خزانہ کو خطوط لکھے ہیں۔

ایف آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ان کے وارنٹ کے اجراء کے لیے معاملہ چل رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ طویل نہیں ہوتا جارہا؟

یہ بھی پڑھیں: میموگیٹ اسکینڈل: ہمیں بلا خوف و خطر اقدامات کرنے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس کے استفسار پر ایف آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ امریکا میں پاکستانی سفارتخانے سے دستاویزات آ رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل تک تمام دستاویزات پوری کرلیں اور آئندہ سماعت پر سیکریٹری داخلہ اور خارجہ دونوں آجائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بندہ عدالت کو یقین دہانی کرا کر ملک سے کیسے بھاگ گیا، یہ عدالت کی عزت کا معاملہ ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا نے کہا کہ حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے اور اس سے متعلق کچھ متعلقہ ریکارڈ واشنگٹنس میں ہے جو منگوانا ہے۔

وقار رانا نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ریکارڈ آنے کے بعد تحقیقات میں پیش رفت ہوگی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کافی عرصے سے مقدمہ چل رہا ہے، ہم تو سمجھ رہے تھے وارنٹ جاری ہو چکے ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم حسین حقانی کو پاکستان لانے سے متعلق حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں اور حکومتی رپورٹس عدالت کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے۔

اس موقع پر عدالت نے سیکٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل وقار رانا کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہمیں بلاخوف و خطر اقدامات کرنے ہیں، اللہ کا کرم رہا تو کوئی لابی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

یاد رہے کہ 15 فروری کو سپریم کورٹ میں میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق سفیر حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

میموگیٹ اسکینڈل

واضح رہے کہ میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا۔

یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میموگیٹ اسکینڈل: حسین حقانی کی گرفتاری کیلئے حکومت انٹرپول کے جواب کی منتظر

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔

کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 'حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی'۔