پاکستانیوں کو 'ہچکی' کیوں دیکھنی چاہیے

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2018

ای میل

بچپن سے لڑکپن تک معلم، استاد یا ٹیچر ہمیں اپنی اپنی زندگیوں میں علم و دانش کے باب دکھلاتے ہیں۔ مگر ہم، معصومانہ ذہنوں کے مالک، اپنی دنیا کے بادشاہ صرف خود کو ہی تصور کرتے ہیں اور شرارتوں اور یاری دوستیوں میں درس و تدریس اور مدرس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دے پاتے۔ دیگر کا تو پتہ نہیں میرا تو یہی حال تھا۔

حال ہی میں ریلیز ہوئی سدھارت ملہوترا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ہچکی آپ کو اپنے اسکول کی یادوں کی پوٹلی کھولنے پر مجبور کردے گی۔

آئیے فلم کے چند اہم پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں۔

ہچکی، کہانی ایک ٹیچر کی

جب اس فلم کا ٹریلر دیکھا تو لگا کہ یہ بھی 2007ء میں ریلیز ہونے والی امریکی فلم فریڈم رائٹرز جیسی ہی ایک فلم ہوگی، فرق صرف یہ ہوگا کہ اس فلم میں امریکی شہر کے بجائے ممبئی کو دکھایا جائے گا، کیونکہ فریڈم رائٹرز بھی ایک مخصوص کلاس روم کے طلباء اور ٹیچر کی کہانی ہے جس میں مختلف لسانی گروہوں کے بچے پڑھتے ہیں۔ چونکہ امریکی سماج میں نسلی تعصب ایک بڑا مسئلہ ہے اس لیے فریڈم رائٹرز میں اس مسئلے کی عکاسی خوب کی گئی ہے۔

ہچکی اور فریڈم رائٹرز کئی زاویوں سے ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں مثلاً دونوں میں پوری لگن اور محنت کے ساتھ پڑھانے والی ٹیچرز ہیں اور دونوں میں ایک شریر اور جھگڑالو کلاس روم کے بچے۔ دونوں فلموں میں اسکول انتظامیہ کو ان بچوں سے پاس ہونے کی کوئی توقع نہیں ہوتی۔ تو کیا ہچکی فریڈم رائٹرز جیسی ہی ایک فلم ہے؟

نہیں ایسا بالکل نہیں۔

فریڈم رائٹرز کی کہانی ایک حقیقی کردار ایرن گرویل اور حقیقت پر مبنی فلم ہے، ایک ٹیچر جو ہائی اسکول کی ایک کلاس کو پڑھانے کے ساتھ لسانی امتیاز کے بجائے تاریخ کا سہارا لے کر احساس و انسانی اقدار کا درس دیتی ہے اور ان بچوں کو اپنی اپنی کہانیاں کورے کاغذ پر لکھنے کے لیے کہتی ہے اور یوں وہ بچے فریڈم رائٹرز بن جاتے ہیں۔ فریڈم رائٹرز فلم واقعی ایک خوبصورت فلم ہے جسے دیکھ کر ہر شخص کو اپنے اندر موجود نرم گوشے کو تلاشنے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب ہچکی کہانی ہے ایک ٹیچر، یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ یہ کہانی ہے نینا ماتھر کی۔ نینا ماتھر کو ٹؤریٹ سنڈروم کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے روانی کے ساتھ بولنے میں مشکل پیش آتی ہے، یوں اس فلم کا نام ہچکی پڑا۔

فلم میں نینا ماتھر یعنی رانی مکھرجی کو ٹیچر بننے کا جنون سا سوار ہوتا ہے، ویسے حیرت ہے کہ ایک ٹیچر کی ملازمت اتنی پرکشش بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود نینا ٹیچر کیوں بننا چاہتی ہے اور کسی دوسرے شعبے میں کیوں نہیں جانا چاہتی؟

دراصل نینا کو لاحق سنڈروم کی وجہ سے بچپن میں ایک اسکول سے نکال دیا گیا تھا اس کے بعد انہیں جس اسکول میں داخلہ ملا وہاں کے پرنسپل مسٹر خان ان کے بولنے میں رکاوٹ نہیں بلکہ قابلیت کو پہچان لیتے ہیں، اور یوں نینا کی زندگی میں ایک آئیڈیل شخص کی تلاش مکمل ہوجاتی ہے، ان کا آئیڈیل، مسٹر خان ایک پرنسپل، ایک استاد ہوتا ہے۔

جس طرح مسٹر خان ان کی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنے تھے ویسے ہی وہ بھی دوسرے بچوں کا آئیڈیل بننے کی تمنا رکھتی ہے۔ سنڈروم کی وجہ سے بولنے میں رکاوٹ کا سامنا بھلے ہو مگر وہ خود پر مکمل بھروسہ رکھتی ہے۔ وہ ہار نہیں مانتی۔

متعدد بار مختلف اسکولوں میں اپلائے کرتی ہیں مگر کہیں ملازمت نہیں ملتی۔ بالآخر سینٹ نوٹکر اسکول میں ملازمت مل جاتی ہے، وہی اسکول جہاں انہوں نے خود تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ دراصل اسکول کے پرنسپل کو کسی بھی حال میں بستی کے شریر بچوں کو پڑھانے کے لیے ایک ٹیچر کی ضرورت ہوتی ہے، اور یوں نینا ماتھر کی قسمت کا ستارہ چمکتا ہے وہ بالآخر ایک ٹیچر بن جاتی ہے۔ اب وہ بچوں کو پڑھانے کے چیلنج کا کس طرح سامنا کرتی ہے، اس کے لیے آپ کو فلم دیکھنی ہوگی۔

دراصل ہچکی اور فریڈم رائٹرز میں سب سے بڑا فرق امریکی اور ہندوستانی معاشروں کا ہے، جہاں امریکا میں نسلی امتیاز ایک بڑا مسئلہ ہے وہاں ہندوستانی معاشرے میں غرباء اور اشرافیہ کا طبقاتی امتیاز بڑی گہرائی کے ساتھ پیوستہ ہے، بالکل ہمارے ملک کی طرح۔

ہچکی ایک باحوصلہ ٹیچر کے ساتھ ساتھ پستی اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے لوگوں اور ان کے بچوں کی بھی کہانی ہے۔

ہچکی میں ایک طبقہ اشرافیہ کا اسکول دکھایا گیا ہے مگر وہاں 9ویں جماعت کا ایک ایف سیکشن بھی ہے، ایک ایسا سیکشن جس میں صرف غریب بستی کے بچے پڑھتے ہیں۔

ہندوستانی معاشرے میں یہ طبقاتی امتیاز کس طرح بچوں کو باغی بنا دیتا ہے اس کی بھی خوب عکاسی اس فلم میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

ہچکی فلم پاکستانیوں کو کیوں دیکھنی چاہیے؟

بطور پاکستانی میں فریڈم رائٹرز کو تو اپنے معاشرے یا یہاں کے طبقاتی مسائل سے جوڑ نہیں پایا البتہ ہچکی دیکھ کرایسا کیا جاسکتا ہے۔

ہچکی میں ممبئی ہے، وہی ممبئی جہاں ساحل سمندر ہے، دو طبقے اشرافیہ اور غرباء ساتھ رہتے ہیں۔ جہاں اونچی عمارتوں کی اوٹ میں کچی بستیوں کی تنگ و بدبودار گلیوں میں زندگی کے آثار مل جاتے ہیں۔ بالکل کراچی کی ہی طرح، ان کے پاس دھاراوی ہے اور ہمارے پاس مچھر کالونی۔

ہچکی صرف ایک ٹیچر اور اس کے طلبا کے ہی گرد نہیں گھومتی بلکہ اس میں ٹؤریٹ سنڈروم سے متاثر شخص کی بھی کہانی ہے کہ کس طرح سماجی رویے اس کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں حالانکہ ان میں بولنے کی رکاوٹ کو چھوڑ کر ہر عام شخص جیسی قابلیت اور صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مغربی اور یورپی ملکوں میں تو ہر قسم کی معذوری یا نقائص رکھنے والے افراد کو سماجی دھارے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر افسوس کے ساتھ ہندوستانی معاشرے کی طرح پاکستان میں بھی معذورین کو خاطر خواہ سماجی شمولیت نصیب نہیں۔

آخر رانی مکھرجی باکس آفس پر راج کیوں نہیں کرتیں؟

4 سالوں بعد ایک بار پھر رانی مکھرجی کو بڑی اسکرین پر جلوہ گر دیکھا۔ ان کی منفرد آواز ہی نہیں بلکہ ان کی پوری شخصیت فن اداکاری سے لبریزاں ہے۔ اس سے قبل ان کی فلم مردانی میں انہوں نے ایک پولیس افسر کا کردار نبھایا تھا اور اس بار ہچکی میں ایک ٹیچر کا۔ دونوں کرداروں میں ان کی اداکاری لاجواب ہے۔

ان کی گزشتہ چند فلمیں باکس آفس کو تو متاثر نہ کرسکیں لیکن ان فلموں میں رانی مکھرجی کی محنت خوب جھلکتی ہے۔

وہ اپنے ہر کردار کو گہرائی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرتی ہیں، اب اگر ان کی اداکاری کو چھوڑ کر فلم کے دیگر شعبے اچھے نہ ہوں تو اس میں قصور رانی کا نہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہچکی بھی خاطر خواہ کمائی نہیں کر پائی ہے، لیکن امید ہے کہ ہچکی باکس آفس پر اچھی کارکردگی دکھائے گی۔

مزید پڑھیے: رانی مکھرجی کی ‘ہچکی’ کی تعریفیں زیادہ، کمائی کم

ہچکی میں رانی مکھرجی کے علاوہ آتش کا کردار ادا کرنے والے ہرش میئر کا ذکر بھی ضروری ہوگا، کیونکہ اس کم عمری میں انہوں نے پختہ اداکاری کی ہے اور دیے گئے کردار کو بخوبی انجام دیا ہے۔

نتیجہ

میرے نزدیک یہ فلم ہر ایک کو دیکھنی چاہیے، خاص طور پر ایک ٹیچر کو تو لازمی دیکھنی چاہیے کیوں کہ ہچکی میں ایک سبق ہے جو کہ پہلے ایک استاد اور پھر پورے معاشرے کو سیکھنا ہوگا کہ تعلیم کو طبقات میں نہیں بانٹا جائے بلکہ ہر ایک طالب علم کو مساوی تعلیم فراہم کی جائے چاہے وہ کسی بستی کی خاک چھانتا ہوا اسکول آیا ہو یا پھر کسی مہنگی گاڑی میں اے سی کی ہوا کھاتا ہوا آیا ہو۔

ایک ٹیچر کے لیے تمام بچے مساوی حیثیت کے حامل ہونے چاہئیں کیوں کہ ہمارے معاشرے میں طبقاتی فرق تو شاید برسوں تک قائم رہے تاہم مساوی تعلیم اور ایک ہی طرح کا نظامِ تعلیم بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوسکتی ہے اور ایک بہتر معاشرے کی بھی۔

امید ہے کہ نینا ماتھر کا جذبہ ہر ایک ٹیچر کے اندر پیدا ہوگا۔