اسلام آباد: سپریم کورٹ نے امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے متنازع میمو گیٹ کیس کی دوبارہ سماعت شروع کرتے ہوئے حکومت کو ‘مرکزی’ ملزم حسین حقانی کو واشنگٹن سے واپس لانے کے لیے 30 روز کی مہلت دی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2 فروری کو متنازع میمو گیٹ کیس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

یہ پڑھیں: میمو گیٹ اسکینڈل: سپریم کورٹ نے کیس دوبارہ کھول دیا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے میمو گیٹ کیس میں دیگر فریقین بشمول سابق وزیر اعظم نواز شریف کے، نوٹسز جاری کیے تھے۔

دوسران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو کب تک واپس لیا جائے گا؟

جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہمیں وارنٹ دے دیے ہیں، جنہیں آج حسین حقانی کے گھر کراچی اور واشنگٹن ارسال کردیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ‘ریڈوارنٹ جاری کرنے کا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہےاور اس کے بعد ہی ریڈوارنٹ جاری ہوں گے’۔

یہ بھی پڑھیں: میمو ،حسین حقانی ہی کی تخلیق تھا، تحقیقاتی کمیشن

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمے کے دوران کہا کہا یہ مقدمہ اسی وقت کے درج ہوجانا چاہیے تھا جو ابھی درج ہوا تاہم یہ بتایا جائے کہ کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں؟۔

جس پر ڈی جی ایف آئی نے کہا کہ ‘قانونی تقاضے پورے کرنا پڑیں گے لیکن میں نے خود بھی امریکہ جانا ہے، اگر حسین حقانی نہ آئے تو امریکہ میں وکیل کے ذریعے مقدمہ کریں گے’۔

واضح رہے کہ میموگیٹ کیس میں سیکریٹری داخلہ اور خارجہ نے بھی شرکت کی۔

ثاقب نثار نے حکومت کی نااہلی پر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تین عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان نے میمو کمیشن پر فیصلہ دیا لیکن عمل درآمد نہیں ہوا، لیکن 30 روز کے بعد کوئی عزر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

میموگیٹ کیس کی دوبارہ سماعت کے حوالے سے انہوں نے کمرہ عدالت میں کہا کہ ‘کہا جاتا ہے میمو گیٹ کمیش کو دوبارہ سن کر کون سے گڑھے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں جبکہ ہم گڑھے مردے نہیں اکھاڑ رہے بلکہ قانون پر عمل درامد یقینی بنا رہے ہیں’۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا حسین حقانی سے لاتعلقی کا اعلان

میڈیا کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ ‘میں تو سوچ رہا ہوں زیر التواء مقدمات پر میڈیا کے تبصروں پر پابندی لگاوں’۔

چیف جسٹس نے میڈیا پر تبصرہ کرنے والوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ٹاک شوز میں آئین اور قانون پر بات کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں صرف تبصروں کا شوق ہے جبکہ ان کی معلومات انتہائی ناقص ہے’۔

میمو گیٹ پر نواز شریف کا افسوس

اسلام آباد میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے میموگیٹ سے متعلق متنازعہ مسئلے میں سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف 2011 میں سپریم کورٹ میں بطور درخواست گزار بننے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مجھے اس مسئلے سے دور ہی رہنا چاہیے تھا’۔

خیال رہے کہ 7 سال قبل متنازعہ میموگیٹ ہی حکومت اور عسکری قیادت کے مابین تنازعے کا باعث بنا۔

وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ احتساب اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے خوفناک قوانین کو اقتدار کے دوران نظر انداز کیا جبکہ یہ قوانین آمر کی تخلیق کردہ ہیں جنہیں عام انتخابات 2002 کے دوران سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیےگئے۔

نواز شریف نے کہا کہ ‘آمر دور میں بننے والے تمام قوانین پین کی ایک نوک سے رد کردینے چاہیے’۔