کراچی: سپریم کورٹ نے عاصمہ نواب اور دیگر دو افراد کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے انہیں 20 سال پرانے قتل کے مقدمے میں قانونی تکنیکیوں کی بنیاد پر با عزت بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تینوں ملزمان عاصمہ، ان کے دوست فرحان اور ان کے ساتھی جاوید کی جانب سے سزا کو چیلنج کرنے پر وکلاء اور استغاثہ کے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔

استغاثہ کے مطابق نواب حسین، ان کی اہلیہ ابرار بیگم اور 25 سالہ بیٹے فہیم کو ان تینوں کی جانب سے 30 دسمبر 1998 کو سعود آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ قتل سے قبل ملزمان نے فہیم کے ہاتھ باندھے اور منہ پر ٹیپ لگایا، فہیم کے بوڑھے ماں باپ معذور تھے بعد ازاں ان تمام افراد کے گلے ملزمان نے چاقو کے وار سے کاٹ دیئے تھے۔

مزید پڑھیں: 5 افراد کے قتل میں سزائے موت کا ملزم 10 سال بعد بری

یاد رہے کہ تینوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے خلاف ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کی تھی۔

جنوری 2015 کو ان کی اپیل کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کیا گیا تھا جس کے بعد ملزمان نے سپریم کورٹ میں اپیل مسترد کیے جانے کے خلاف درخواست جمع کرائی تھی۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے بینچ کے آگے کہا تھا کہ وہ مظلوم ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے مقدمات بے بنیاد ہیں۔

عدالت سے انہوں نے اپنی سزاؤں کو ختم کرنے اور رہا کیے جانے کی گزارش کی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ استغاثہ اپنے مقدمات ثابت کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قتل کے ملزم کی 22 سال بعد رہائی کا حکم

عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس اپنے مقدمات کو عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملزمان گزشتہ 20 سال سے قید میں تھے جو خود ایک سزا ہے۔

خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک سال تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد تینوں ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں جبکہ چوتھے ملزم محمد وسیم جو ملزم فرحان کے بھتیجے تھے کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے قتل میں سہولت کار بننے پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس علی سائیں ڈینو اور جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم پر مشتمل ڈویژن بینچ نے 2009 میں فیصلہ سناتے ہوئے ایک ملزم کو باعزت بری کردیا تھا اور دیگر کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔


یہ خبر 4 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی