اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس میں حکم دیا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی بھی سرکاری اشتہار میں سیاسی قائدین کی تصاویر شائع نہ کی جائیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران سینئر صحافی اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر حمید ہارون اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے ضیاء شاہد، صحافی اسد کھرل بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تصاویر کے ساتھ اپنی تشہیر کرنا مناسب نہیں ہے، یہ قوم کا پیسہ ہے اسے قوم کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کو اشتہار کے 55 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ عوامی پیسہ ہے، اس سے خودنمائی نہیں ہونی چاہیے، اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی یا نعروں کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور حمید ہارون کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیا حکومت جس طرح خود نمائی کے لیے اشتہارات دے رہی ہے کیا وہ ٹھیک ہے؟

اس پر حمید ہارون نے کہا کہ ہم اس کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے، عدالت قانون کے مطابق جو فیصلہ کرے گی اے پی این ایس کو قبول ہوگا۔

دوران سماعت ضیاء شاہد نے عدالت کے سامنے اپنا موقف بتاتے ہوئے کہا کہ سرکاری خرچ پر خود نمائی نہیں ہونی چاہیے، سی پی این ای چیف جسٹس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزراء کے علاوہ ان کے رشتے داروں کے ماضی میں اشتہارات چھپتے رہے لیکن ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت اشتہارات چھپوا کر ادائیگیاں کیوں نہیں کر رہی، جس پر ضیاء شاہد نے بتایا کہ اشتہاری کمپنیوں میں ڈان پیدا ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 3 ماہ میں 90 کروڑ کے اشتہارات دیئے گئے، یہ آپ کا کاروبار ہے اس کے بغیر آپ کا چینل اور اخبار بے معنی ہوجائے گا۔

سماعت کے دوران ضیاء شاہد نے بتایا کہ وزیر اطلاعات سندھ اشتہارات پر خورد برد پر جیل میں ہیں جبکہ ایک سال میں 25 چیکس 6 کروڑ روپے کے بنتے ہیں لیکن ان کی ادائیگیاں نہیں کی گئی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اشتہار کس نے دینا ہے اور کتنا دینا ہے یہ معاملہ بھی زیر سماعت ہے، ہم نے شفاف انتخابات کرانے کے لیے سرکاری اشتہارات میں خود نمائی پر پابندی لگائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر سرکاری اشتہارات میں کوئی تصویر نہیں چھاپی جائیں گی، کوئی بھی سیاسی قائد کی تصویر کسی اشتہار میں شائع نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کا صوبائی حکومتوں کی تشہیری مہم کا نوٹس

اس موقع پر صحافی اسد کھرل نے بتایا کہ وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت اشتہارات کے حوالے سے گائیڈ لائن پر عمل کر رہی ہے لیکن دیگر صوبے اس پر عمل نہیں کر رہے۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبائی حکومتوں کی تشہیری مہم کا نوٹس لیا تھا اور پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا حکومت کے سیکریٹری اطلاعات سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دیئے گئے اشتہارات کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس کی جانب سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو سرکاری اشتہار کی مد میں خرچ ہونے والے 55 لاکھ روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔