اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے عدالت کو بتایا کہ انہیں موصول ہونے والے 17 فیصد ڈیٹا میں غلطی کا امکان ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے مطابق دوہری شہریت سے متعلق اخبارات میں معلومات شائع کرا دی گئیں ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ 31 مارچ تک جن افراد کا ڈیٹا جمع کیا گیا، ان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار 90 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ 50 ہزار 9 سو 33 گریڈ 17 سے زائد کے افسران کا ڈیٹا چیک کیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ رضا کارانہ طور پر 655 سرکاری افراد نے اپنی شہریت ظاہر کی، تاہم ان میں سے غیر ملکی شہریوں کی تعداد 5 تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 254 سرکاری ملازمین ویسے تو غیر ملکی ہیں، لیکن ان کے زیرِ کفالت پاکستانی ہیں جبکہ 320 سرکاری ملازمین ایسے ہیں جو خود اور ان کی زیرِ کفالت افراد دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نادرا ڈیٹا سے چھان بین کے بعد معلوم ہوا کہ 151 سرکاری افسران نے دوہری شہریت چھپائی۔

ڈی جی ایف آئی اے کا عدالت میں کہنا تھا کہ ’ہم نے تمام محکموں مجموعی طور پر تقریباً 6 لاکھ سرکاری افسران کا ڈیٹا جمع کیا کیونکہ ہائی اسکول ٹیچر کا گریڈ بھی 17 ہوتا ہے جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اداروں کے سربراہان کی فہرست فراہم کی جائے، ان کو بھی عدالت میں طلب کرلیا جائے گا۔

عدالت میں ایک سرکاری افسر مینا کھرل کے قریبی رشتہ دار خالد جمال کا کہنا تھا کہ مینا کھرل پیدائشی جرمن شہریت رکھتی ہیں اور وہ پاکستان ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں کام کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون پاکستانی ہے اور کون دوہری شہریت رکھتا ہے۔

اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ نادر چوہدری سفارتکار ہیں اور مراکش میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور انہوں نے اپنی دوہری شہریت ظاہر کر رکھی ہے لیکن ایف آئی اے اصل تصویر پیش نہیں کر رہا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نادر چوہدری برطانیہ کی شہریت رکھتے ہیں تو وہ پاکستان میں کیا سروس کریں گے۔

چیف جسٹس نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن سرکاری افسران نے اپنی دوہری شہریت چھائی اور وہ آئے نہیں ان کی سروس معطل کی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کے سربراہان کی تعداد 100 سے 125 ہو گی، ہم صبح سے رات تک مقدمہ سن لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ زیادہ ہوئے تو ہم نیشنل آیڈیٹوریم میں مقدمہ سن لیں گے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ عدنان محمود، مینا کھرل، شرجیل مرتضیٰ، عابدہ جاوید غیر ملکی شہریت رکھتی ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ کل 12 لوگ بنتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مینا کھرل نے پاکستانی اورجن کارڈ کیسے حاصل کر لیا؟

مختلف سرکاری افسران کا ایف آئی اے کی دوہری شہریت سے متعلق ڈیٹا پر غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم دوہری شہریت نہیں رکھتے اس کے باوجود ہمارا نام اس ڈیٹا میں شامل کرلیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تک دوہری شہریت رکھنے والوں کو سرکاری شہریت رکھنے پر کوئی پابندی نہیں، تاہم سرکاری افسران سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم جا کر ڈی جی آیف آئی اے کو غلطیوں کی نشاندہی کریں۔

سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ ہوا تاہم کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’جھوٹ بول کر سرکاری نوکرایاں لینے والے دھوکے باز ہیں‘۔

اس موقع پر ایک سرکاری ڈاکٹر نے بتایا کہ انہوں نے نوکری شروع کرنے سے قبل اپنی دوہری شہریت ظاہر کی تھی، لیکن پھر بھی نام دوہری شہریت چھپانے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں موصول ہونے والے17 فیصد ڈیٹا میں غلطی کا امکان ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایسے لوگ جن لوگوں کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ دوہری شہریت یافتہ ہیں انہیں پزیرائی ملنی چاہیے۔

14 فروری 2018 کو سپریم کورٹ میں سرکاری افسران اور ججوں کی دوہری شہریت کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈی ایم جی، پی ایس پی، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس منیجمنٹ گروپس سے 15 دنوں میں جواب طلب کر لیا تھا جبکہ جواب نہ دینے والے ادارے کے خلاف کارروائی کرنے کی تنبیہ بھی کردی تھی۔

یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے حامل افسران کو شہریت ظاہر کرنے کے لیے 10 دن کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہریت ظاہر کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ہوگی۔

26 مارچ کو سپریم کورٹ میں سرکاری افسران اور ججوں کی دوہری شہریت کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دوہری شہریت چھپانے والے 147 سرکاری افسران کو نوٹس جاری کردیا تھا۔