وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر ہونے والی فائرنگ کی مذمت کی اور انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے سازگار ماحول بہت ضروری ہے۔

لاہور میں ریلوے ایمپلائز اپارٹمنٹس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جسٹس اعجار الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ ایک وحشیانہ فعل ہے، ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور آج کا دن اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کی حرمت ہو گی تو ملک آگے بڑھے گا، انتخابات کے لیے سازگار ماحول بہت ضروری ہے اور بروقت انتخابات بہت ضروری ہیں کیونکہ پرامن اقتدارانتقال ممکن ہو سکے ووٹ کی حرمت ہو گی تو ملک آگے بڑھے گا۔

انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، گالیوں اور الزامات کی بنیاد پر مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر عزت نہیں کرسکتے تو بے عزتی تو نہ کریں کیونکہ انھی سیاست دانوں نے ملک کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے، اگر ہمیں اعتماد کا کہا جاتا ہے تو ہم پر بھی اعتماد کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں میں بڑا حوصلہ ہوتا ہے، دیگر کو بھی اسی طرح کا حوصلہ پیدا کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ریلوے کی بہتری کے لیے آدھی اسمبلی ناراض کرلی لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔

ریلوے ایمپلائزاپارٹمنٹس سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلویز کا یہ پراجیکٹ ابتدائی طور پر 7 شہروں میں شروع کیا جارہا ہے جبکہ چار شہروں میں 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے جس میں ایک کوارٹر بھی کوئی وزیر یا سی ای او کو نہیں دے سکتا اور کسی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی کے مطابق دیے جارہے ہیں تاہم جو گھرانے اورنج ٹرین کی زد میں آئے تھے انھیں آج ترجیحی بنیادوں پر دیے گئے ہیں۔

ریلوے کی وزارت کی گزشتہ ادوار میں کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں ریلوے کا بیڑہ غرق کر دیا گیا تھا، سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا لیکن ہم نے ریلوے پر توجہ دی اور اگر اسی طرح مزید توجہ دی گئی تو ریلوے مکمل طور پر بدل جائے گا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے میں کئے جانے والے کام پر کافی حد تک مطمئن ہوں کیونکہ جو کرسکتے تھے وہ کیا تاہم گزشتہ چھ ماہ سے کام کرنے کا مزہ نہیں آیا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم کام کریں یا اپنا دفاع کریں، کام کرنے کا مزہ دونوں ہاتھوں سے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:60 ارب خسارے کا کیس: چیف جسٹس نے ریلوے کے آڈٹ کا حکم دے دیا

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ریلوے کی نجکاری نہیں ہو گی۔

حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 10 ہزارمیگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل نہ کرتے تو آج صرف دو گھنٹے بجلی مل رہی ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ورنہ سو فیصد بجلی مل جاتی اور حالات مزید بہتر ہوتے۔

تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سی ای او ریلویز محمد جاوید انور بوبک اور دیگر بھی موجود تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹیاں بدلنے والوں کا نام و نشان مٹ جاتا ہے جو اپنے نہیں ہوتے وہ کسی کے کیا ہوں گے۔

اسپیکر نے کہا کہ 2018 کا الیکشن سر پر ہے، وقت پر صاف اور شفاف انتخابات بہت ضروری ہیں۔