مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک کارروائی کے دوران غزہ کی پٹی سے ان کے علاقے تک تعمیر کی گئی ایک سرنگ تباہ کردی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع ایوگڈور لائبرمین نے کہا کہ تباہ کی گئی سرنگ بہت طویل اور گہری تھی۔

یہ پڑھیں: اسرائیلی فوج کا 'حماس کی سرنگ' کو تباہ کرنے کا دعویٰ

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان جوتھن کونریکس نے بتایا کہ غزہ کی پٹی سے منسلک سرنگ ان کے علاقے میں کئی میٹر اندر تک تعمیر کی گئی تھی تاہم سرنگ کا خارجی راستہ نہیں تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ مہینے کے دوران 5 ویں غزہ سرنگ کو تباہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کا سلسلہ 30 مارچ سے جاری ہے جبکہ یورپین یونین اور اقوام متحدہ کے چیف انتونیو گوتریز نے غیر جانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل میں افریقی پناہ گزینوں کی رہائی

سپریم کورٹ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ سے افریقی پناہ گزینوں کی ملک بدری کے معاہدے کو بحال کرتے ہوئے زیر حراست 207 افریقی پناہ گزینوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں تقریباً 42 ہزار افریقی پناہ گزین رہائش پذیر ہیں، اسرائیلی حکام نے 207 افریقی باشندوں کو ملک بدری سے انکار پر فروری میں حراست میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن الزامات: اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گھیرا تنگ

اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے حکومت کو 10 اپریل تک کی مہلت دی تھی کہ وہ پناہ گزینوں کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے۔

تاہم حکومت کی جانب سے ناکامی پر سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو پناہ گزینوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی سے افریقی پناہ گزینوں کو جبری طور پر نہ نکالنے کے معاہدے کو چند گھنٹے بعد ہی ختم کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کامقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

نیتن یاہو کی جانب سے اچانک یہ حیران کن اعلان دائیں بازوں کے لوگوں کی جانب سے سخت دباؤ کے بعد کیا گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کریں۔


یہ خبر 16 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی