خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے مشیر سردار سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں گرفتار بلدیو کمار کو ایک مرتبہ پھر حلف برداری کے لیے اسمبلی پہنچایا گیا تاہم وہ حلف نہ اٹھا سکے۔

ان کے اسمبلی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بلدیو کمار صوبائی اسمبلی میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی ایوان میں آئے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں اقلیتی رکن اسمبلی قتل

خیال رہے کہ بلدیو کمار دوسری مرتبہ حلف اٹھانے کے لیے صوبائی اسمبلی آئے تھے۔

بلدیو کمار کی حلف برداری کے وقت صوبائی اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر اسمبلی کی جانب سے اجلاس میں 2 مرتبہ وقفہ دیا گیا تاہم کورم پھر بھی پورا نہ ہوسکا۔

یہ بھی دیکھیں: پی ٹی آئی کے رکن ارباب جہانداد نے بلدیو کمار کو جوتا دے مارا

بعد ازاں اسپیکر صوبائی اسمبلی نے اجلاس کو غیر معینہ مدت تک لے لیے ملتوی کردیا۔

جس کے بعد بلدیو کمار کو سیکیورٹی اہلکاروں نے دوبارہ ایوان سے واپس جیل منتقل کردیا گیا۔

اس سے قبل 27 فروری کو انہیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں لایا گیا تھا تاہم ان کے اسمبلی میں آنے پر ان کے ساتھی اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے منتخب ہوکر صوبائی اسمبلی کا رکن بننے والے ارباب جہانداد نے بلدیو کمار کو جوتا دے مارا تھا۔

مزید پڑھیں: سورن سنگھ قتل کیس:2ملزمان کا اعتراف جرم

ساتھی اراکین کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے بلدیو کمار اس دن بھی حلف نہیں اٹھا سکے تھے جس کے بعد انہیں جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 22 اپریل 2016 کو خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر برائے اقلیتی امور اور رکن اسمبلی سورن سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی تنازع'

سورن سنگھ کو قتل کرنے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سورن سنگھ کو سکھ مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی عہدیدار ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم واقعے کے تین روز بعد ہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ آزاد خان نے پشاور میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ سورن سنگھ کو الیکشن کے لیے ٹکٹ نہ ملنے کے تنازع پر اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کیا گیا۔