پاکستان کے کرکٹ کلب کی بغیر اجازت نمائندگی پر افغان وکٹ کیپر محمد شہزاد مشکل میں پھنس گئے ہیں اور افغان کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر بلے باز پر جرمانہ عائد کردیا ہے۔

پشاور میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت پر شہزاد کو تنبیہ کی گئی اور انہیں فوری طور پر وطن واپسی کا حکم دیتے ہوئے 3لاکھ افغانیز(4ہزار 400ڈالر) ادا کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا اور مارکیٹنگ منیجر لطف اللہ استینکزئی نےاے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ زمبابوے میں منعقدہ ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کے بعد 30 سالہ شہزاد پاکستان چلے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ قوانین کے تحت وہ ٹورنامنٹ جسے افغانستان کرکٹ بورڈ کی منظوری حاصل نہ ہو اسے کسی بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو این او سی درکار ہوتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ شہزاد کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے ہوں بلکہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ میں زمبابوے کے خلاف میچ میں پچ پر بیٹ مارنے پر انہیں 2 میچوں کے لیے معطل کردیا گیا تھا جبکہ اس سے تین ماہ قبل ہی ان پر ایک سال کی ڈوپنگ کی پابندی ختم ہوئی تھی۔

افغان کرکٹ بورڈ نے خبردار کیا کہ اگر شہزاد نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو ان کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔

افغان کرکٹ بورڈ نے بیرون ملک خصوصاً پاکستان میں کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ اگر وہ افغانستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو ملک واپس آ جائیں کیونکہ ملک میں اب کافی کرکٹ ہو رہی ہے اور کھلاڑیوں کو کسی اور ملک میں کلب کرکٹ کھیلنے کی ضرورت نہیں۔