قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام کی تحقیقات کرنے کا اعلان کر دیا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نئی اسمبلی عمارت کی تعمیر کے دوران آغا سراج درانی اور سندھ اسمبلی کے سیکریٹری غلام محمد فاروق کی جانب سے ٹھیکے دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کی تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں مبینہ کرپشن پر سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی نے نیب پر ’امتیازی سلوک‘ روا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید تنقید کی تھی۔

اس وقت سندھ اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد میں اسمبلی اراکین کی جانب سے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک بھر میں عدالتی نظام سے متعلق ایک ہی پالیسی اپنائے اور اس پر سختی سے عمل کرے۔

قرارداد کی ایم کیو ایم کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی تھی۔