کسی زمانے میں اپنے خوشگوار موسم اور خوبصورتی کی وجہ سے ’لٹل پیرس‘ کہلانے والی وادئ کوئٹہ کو فی الوقت جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث مختلف مسائل کا سامنا ہے وہیں موسمیاتی تبدیلیوں اور آلودگی نے پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

کوئٹہ شہر جو ایک طرف سیب و خوبانی کے باغات اور ڈرائی فروٹس کے لیے کافی مشہور ہے وہیں اس کا ایک اور معتبر حوالہ ’ہنہ جھیل‘ بھی ہے۔

کوئٹہ کی آلودہ اور دھویں سے اٹی فضا سے 17 کلومیٹر دور اوڑک روڈ پر شمال کی جانب مڑتے ہی سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان گھری یہ سبز مائل جھیل دور سے ہی دکھائی دیتی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس جھیل کو برطانوی راج میں کوئٹہ چھاؤنی کو پانی کی مستقل فراہمی کے لیے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ کوہِ مردار اور زرغون کے پہاڑوں سے برف پگھلنے سے آنے والا اور بارشوں کا پانی مختلف گزرگاہوں سے ہوتا ہوا اِس جھیل میں جمع ہوجائے۔ مگر بارشوں کی قِلت، حکومتی عدم توجہ اور مقامی افراد کی لاپرواہی کی بدولت کسی دور میں سائبیریا سے آنے والے نایاب پرندوں کا مسکن رہنے والی یہ جھیل اب مکمل طور پر خشک ہوکر کسی بنجر تھور زدہ زمین کا منظر پیش کررہی ہے۔

جھیل اب مکمل طور پر خشک ہوکر کسی بنجر تھور زدہ زمین کا منظر پیش کررہی ہے۔
جھیل اب مکمل طور پر خشک ہوکر کسی بنجر تھور زدہ زمین کا منظر پیش کررہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں تفریحی مقامات پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں اور دوسرے شہروں سے آنے والے افراد یا سیاحوں کے لیے ہنہ جھیل کو ایک اہم تفریحی مقام کی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں پر آنے اور کشتی رانی کے لیے باقاعدہ ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے جبکہ ماضی بعید میں ہنہ جھیل کو وائلڈ لائف کی جانب سے آبی پرندوں کی قدرتی آماجگاہ بھی قرار دیا جاچکا ہے جن کی حفاظت متعلقہ حکومت کا فرض ہوتا ہے، مگر نہایت افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس بار یہ جھیل کچھ اس انداز میں اجڑی ہے کہ اب اس کا دوبارہ اپنی پہلی حالت میں لوٹ آنا مشکل نظر آتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ جب سیاحوں کے لیے ہنہ جھیل ایک ایم تفریحی مقام کی حیثیت رکھتی تھی۔
ایک وقت تھا کہ جب سیاحوں کے لیے ہنہ جھیل ایک ایم تفریحی مقام کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ زرغون کے پہاڑوں پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے بعد بارشوں کا پانی اپنے ساتھ وافر مقدار میں مٹی ساتھ لاتا رہا جس کے باعث جھیل کی گہرائی مسلسل گھٹتی گئی اور کسی دور میں خونی جھیل کے نام سے مشہور ہنہ جھیل میں اس وقت محض 15 کروڑ 50 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جو ماضی کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ اس کےعلاوہ جھیل کی مٹی اس قسم کی ہے کہ وہ زمین میں پانی کو جذب ہونے نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں ریکارڈ برفباری کے باوجود جھیل میں پانی ذخیرہ نہیں ہوسکا۔ جنگلات کے کٹاؤ سے ایک طرف کوئٹہ اور گرد و نواح میں جہاں بارشوں میں کمی واقع ہوئی وہیں خطے کا درجۂ حرارت بھی تیزی سے بڑھتا گیا جو لامحالہ عملِ تبخیر میں اضافے کا سبب بنا اور بارشوں سے ذخیرہ ہونے والا پانی اب محض چند ماہ میں خشک ہوجاتا ہے۔

پڑھیے: اپنے پرندوں کی منتظر ہالیجی جھیل

ہنہ جھیل میں پانی کا بنیادی ماخذ وہ نالہ رہا ہے جو ہیڈ ورکس سے ہوتا ہوا ہنہ ندی اور پھر جھیل میں گرتا تھا جبکہ اسے کافی مقدار میں پانی زغون اور ولی تنگی چینلز سے بھی فراہم کیا جاتا رہا ہے مگر حکومتی عدم توجہ کے باعث کافی عرصے سے ان چینلز کی صفائی نہیں کی گئی لہٰذا پہاڑوں سے آنے والا کافی زیادہ پانی ضائع ہوجاتا ہے یا مقامی افراد اسے تالابوں میں ذخیرہ کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے بھی جھیل میں پانی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی، جھیل کی تباہی میں ایک اہم کردار غیر قانونی طور پر لگائے گئے بے حساب ٹیوب ویلوں کا بھی ہے۔ فی الوقت بارشوں کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث شہر کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

ماضی میں لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیوب ویلوں کے ذریعے بے دریغ پانی نکالتے رہے ہیں جس سے یہاں زیرِ زمین پانی کی سطح 200 فٹ سے گھٹ کر محض 100 فٹ رہ گئی۔ اگرچہ عوام کو ضروریاتِ زندگی بہم فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے مگر حکومتی مشینری اس قدر غافل ہے کہ بدترین بحران کے باوجود متعدد نئے ٹیوب ویل باقاعدہ پرمٹ یا اجازت کے بغیر لگائے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئٹہ کے مضافات خصو صاً ہنہ جھیل کے اطراف نہ صرف ٹیوب ویل بلکہ پمپوں سے بھی پانی کھینچ کر نکالنے پر پابندی لگائی جائے۔ موجودہ بحران کی صورتحال سے نہ صرف کوئٹہ میں سیاحت کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ اوڑک اور ہنہ جھیل کے اطراف آباد ایسے ہزاروں افراد کا روزگار بھی کافی زیادہ متاثر ہوا، جو یہاں ہوٹلوں، ریسٹورنٹ میں کام کرتے یا اپنی دکانیں چلاتے تھے۔

اس کے علاوہ پانی کی قلت سے اوڑک روڈ پر میلوں پھیلے سیب، خوبانی اور انار کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جن کی درآمد سے بلوچستان کو کثیر زرِ مبادلہ ملتا تھا۔

کوئٹہ کی ہنہ جھیل کی طرح سندھ کی کئی جھیلیں بھی اس وقت تباہی کے دہانے پر ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ سے درجۂ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو ایک یا دو برس میں وہ بھی مکمل طور پر خشک ہوجائیں گی۔ ان جھیلوں میں سرِ فہرست ’ہالیجی جھیل‘ ہے جس کا شمار پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔

ہالیجی جھیل—تصویر ابوبکر شیخ
ہالیجی جھیل—تصویر ابوبکر شیخ

ٹھٹہ کے مضافات میں واقع 17 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی یہ جھیل ماضی میں 10 ہزار پرندوں کا مسکن رہی ہے، جن میں کئی نایاب آبی پرندے بھی شامل ہیں جو سائبیریا سے طویل سفر کرکے اس جھیل پر آ کر بسیرا کرتے تھے، مگر تیزی سے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، فضائی اور آبی آلودگی کی وجہ سے اب کئی برس سے ان پرندوں نے ہجرت ترک کردی ہے۔ جھیل کے متعلق جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس میں پانی کے کم سے کم لیول 28 پوائنٹ تھا جو اس وقت 17 پوائنٹ تک گرچکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کینجھر جھیل سے اسے ملنے والے پانی کی ترسیل کی بندش بھی ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہالیجی جھیل کے علاوہ ضلع شہداد کوٹ کی ڈرگھ جھیل اور لنگھ جھیل کو وائلڈ لائف کی جانب سے آبی پرندوں کا قدرتی مسکن قرار دیا جاچکا ہے مگر حکومت اُن کی حفاظت کرنے سے قاصر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ چند برسوں میں یہ جھلیں بھی ہنہ جھیل کی طرح خشک ہوجائیں گی۔

جھیلیں چاہے بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہوں یا جنگلات و سبزے سے ڈھکے چٹیل میدانوں میں اپنا پرفسوں بکھیر رہی ہوں، یہ ہمیشہ سے ہی انسان کو اپنے سحر میں جکڑتی رہی ہیں، لہٰذا یہ نہ صرف تفریح کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں بلکہ اطراف کی آبادی کے لیے ذریعۂ روزگار اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کا باعث بھی بنتی ہیں۔

پڑھیے: اچھڑو تھر: جھیلوں اور سفید ٹیلوں کا ریگستان

اس حقیقت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ انسانی زندگی کی یہ تمام رونقیں اور میلے پانی کے دم سے ہیں مگر گزشتہ 3 دہائیوں سے بڑھتی ہوئی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی بدولت دنیا بھر میں کئی حسین جھیلیں اپنا وجود کھوچکی ہیں اور کئی جھیلوں کا حجم سڑکتا جا رہا ہے۔ ان جھیلوں میں سرِفہرست بولیویا کی ’پوپو جھیل‘ ہے جو سطحِ سمندر سے 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ 3 دہائیوں قبل یہ 3 ہزار مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر مشتمل تھی، اب پانی کی قلت کے باعث یہ مکمل طور پر خشک ہوچکی ہے۔ جس کے بعد بڑی تعداد میں مقامی آبادی نے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کی اور زیادہ تر ماہی گیروں نے نمک کی کانوں یا تعمیراتی کام میں ملازمت اختیار کرلی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں دیگر پانی کے ذخائر کے ساتھ جھیلیں بھی تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کے ہر خطے میں درجۂ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مگر دیکھا گیا ہے کہ سمندروں کی نسبت جھیلوں میں عمل تبخیر تیز تر ہے جس کی ایک بڑی وجہ جھیلوں کی محدود بیرونی سطح ہے۔ اسی طرح تمام جھیلوں میں پانی کی کمی یکساں نہیں ہے، ایک طرف ہنہ جیسی کئی جھیلیں معتدل خطے میں ہونے کے باوجود معدوم ہوچکی ہیں تو دوسری جانب کچھ جھیلیں شدید گرم خطے میں واقع ہونے کے باوجود ابھی تک اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں اور امکان ہے کہ حکومتوں کی مناسب منصوبہ بندی کے بعد قدرت کے ان حسین تحفوں کو بچا لیا جائیگا۔

انہی میں سے ایک معروف ایران کی ’ارمیا جھیل‘ ہے۔ 200 مربع میل کے وسیع رقبے پر محیط مشرقِ وسطیٰ کی یہ جھیل بحیرۂ کیسپین کے بعد نمکین پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے مگر گزشتہ 25 سے 30 سالوں میں انسانی لاپرواہی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس کا 80 فیصد حجم کم ہوچکا ہے جس کے بعد یہاں سکونت اختیار کرنے والے کئی نایاب آبی پرندوں کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہے، اور اپنی عمدہ غذائیت کے باعث دنیا بھر میں مشہور اس کا جھینگا اب ناپید ہوچکا ہے۔

ارمیا جھیل

Urmia lake drought.gif

وسیع رقبے پر پانی خشک ہوجانے بعد نمک کے ڈھیر زمین کو بنجر کرنے کے علاوہ مٹی کے ساتھ نمک کے طوفانوں کا باعث بن رہے ہیں جس سے تبریز اور اطراف کی 50 لاکھ سے زائد آبادی کو آنکھوں، جلد اور پھیپڑوں کے امراض کا سامنا ہے۔ کہیں کہیں بچ جانے والے پانی کے جوہڑوں میں الجی اور بیکٹیریا کی بہتات کے باعث پانی کا رنگ نارنجی یا سرخ ہوچکا ہے۔ کسی دور میں تبریز سیاحت کے لیے آنے والے افراد ارمیا جھیل میں غسل کو فرض سمجھتے تھے، جسے غسلِ صحت بھی کہا جاتا تھا مگر اب سیاح تو درکنار مقامی آبادی بھی اس کے گدلے اور بدبو دار پانی سے دور بھاگتی ہے۔

اس جھیل کی تباہی میں بنیادی کردار بلاشبہ گلوبل وارمنگ کا رہا ہے مگر اس کے علاوہ اس میں انسانی لاپرواہی بھی کارفرما ہے۔ ایک طرف جھیل سے منصوبہ بندی کے بغیر ہزاروں کی تعداد میں کنویں نکالے گئے تو دوسری جانب اسے پانی فراہم کرنے والے 13 دریاؤں پر ڈیمز بنادیے گئے جن سے پانی کی ترسیل میں کمی آئی۔ اس کے علاوہ اطراف کی آبادی نے اپنی فصلوں کو کاشت کرنے کے لیے پمپ کے ذریعے بے دریغ پانی نکالا جس کے بعد دنیا بھر میں اپنے نمکین پانی کے وجہ سے شہرت رکھنے والی یہ خوبصورت جھیل بتدریج تباہ ہوتی جا رہی ہے۔

مگر ایران کی حکومت اس قدرتی تحفے کو ہرگز کھونا نہیں چاہتی، لہٰذا گزشتہ برسوں میں اس کے بچاؤ اور پانی کی وافر اور فوری فراہمی کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے، جن میں ڈیموں سے پانی کی فراہمی کے علاوہ تبریز اور اطراف میں ذرائع آبپاشی کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہیں تاکہ جھیل میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکے، امکان ہے کہ ان مؤثر اقدامات کے بعد ارمیا جھیل کو کسی حد تک پہلے کی حالت میں واپس لایا جاسکے گا، مگر چند ممالک میں کچھ ایسی بد قسمت جھیلیں بھی ہیں جہاں کی حکومتیں ابھی تک ان کی حفاظت سے یکسر غافل ہیں۔

پڑھیے: کینجھر: رومان، روزگار اور زندگی کی جھیل

انہی میں ایک نائیجیریا کی ’چاڈ جھیل‘ ہے جو کبھی بحیرۂ کیسپین جتنی وسیع تھی مگر اب زبردست حد تک سکڑ چکی ہے۔ گزشتہ برسوں میں شدید گرمی اور بارشوں کی قلت کے باعث اس کا 95 فیصد پانی خشک ہوچکا ہے۔ کسی زمانے میں 30 سے 40 فٹ گہری یہ جھیل 4 لاکھ مربع میل کے وسیع رقبے پر مشتمل تھی اور اس کے اطراف موجود سبزہ زار خوش کن منظر پیش کیا کرتا تھا مگر 1960ء سے یہاں مسلسل پانی میں کمی دیکھی جارہی ہے اور فی الوقت یہ سکڑ کر محض 520 مربع میل تک محدود رہ گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر خشک سالی پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات نہیں کیے گئے تو جھیل چاڈ ہمیشہ کے لیے معدوم ہوجائے گی۔

کسی دور میں تنزانیہ کی ’تنگا نائیکا‘ جھیل کا شمار افریقہ کی بڑی جھیلوں میں کیا جاتا تھا جو صدیوں سے خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہونے کے باعث ہر دور میں سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنی ہوئی تھی۔ اگرچہ یہاں پانی کی سطح میں کمی 18ویں صدی سے دیکھی جارہی ہے مگر 19 ویں صدی میں موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے گلوبل وارمنگ کے باعث بارشوں میں مسلسل کمی ہوتی گئی، جس کے بعد جھیل کو دریائے کانگو اور دریائے لوکنگا سے پانی فراہم کیا جانے لگا، مگر گزشتہ ایک دہائی سے ان دریاؤں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک گرچکی ہے اور اگلے چند برسوں میں دنیا ایک اور تاریخی جھیل سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گی۔

افریقہ ہو ایشیاء ہو یا پھر یورپ، دنیا بھر میں تیزی سے آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے، نہ صرف جھیلیں بلکہ دریا، ندی نالے اور آبشاریں بھی اسی رفتار سے خشک ہوکر اپنا وجود کھوتی جارہی ہیں، جبکہ سمندروں پر بھی گلوبل وارمنگ کی بدولت عملِ تبخیر میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جو ایک طرف دنیا بھر میں موسمیاتی بگاڑ، بے وقت کے سمندری وبرفانی طوفانوں کا سبب بن کر کئی کئی ماہ تک نظامِ زندگی مفلوج کرنے کا سبب بن رہا ہے تو دوسری جانب دنیا کے کئی خطوں کو خشک سالی کا سامنا ہے۔

انسان نے ٹیکنولوجی کی اندھا دھند تقلید اور اپنی زندگیوں کو سہل بنانے کے جنون میں اس کرۂ ارض کے قدرتی نظام کو کچھ ایسے نقصان بھی پہنچائے ہیں جن کی تلافی اب شاید ممکن نہیں رہی اور لامحالہ ہماری یہ زمین ایک ایسے آتشی گولے میں تبدیل ہوگئی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر ہر شے کو تباہ کردیگا۔ آئیے اس ’ارتھ ڈے‘ پر یہ عہد کریں کہ خلاؤں پر کمندیں ڈالنے کے ساتھ ہمیں اپنی اس پیاری زمین کے قدرتی نظام کو بحال کرنے کے لیے اس کی بقا کی جنگ بھی لڑنی ہے کیونکہ ہماری زندگی اسی کے دم سے ہے۔