اوپن مارکیٹ میں ڈالر 119 روپے کی نفیساتی حد عبور کرگیا

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2018

ای میل

کراچی: اوپن کرنسی مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 119روپے 50 پیسے کی نفیساتی حد عبور کرگئی۔

وااضح ہے کہ رواں ہفتے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے اسباب پر نظر رکھنے کے لیے کرنسی ڈیلرز کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) نے ایس بی پی کی جانب سے ڈالر کی قیمت کو ایک ہفتے میں کم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

یہ پڑھیں: ڈالر سے متعلق افواہوں اور مفروضوں پر توجہ نہ دیں، اسٹیٹ بینک

کرنسی ڈیلرز پر مشتمل دو تنظیموں نے اپنےاپنے اراکین کے ہمراہ اجلاس میں ڈالر کی قیمت کو کم لانے کے لیے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ‘اگر وضع کردہ قوائد و ضابط پر عمل نہیں کیا گیا تو جرمانہ عائد کیا جائے گا’۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے صدر ملک بوستان نے کہا کہ ‘ایف اے پی کے اراکین ڈالر کی قیمت 118 روپے 70 پیسے تک لانے کے لیے جمعرات کو فروخت کی جائے گی’۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز (25 اپریل) کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 119 روپے رہی جبکہ مارکیٹ رحجان نے بھی مذکورہ قیمت کو قبول کرنے کے رحجانات پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر میں مزید کمی کا امکان نہیں، مفتاح اسماعیل

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) نے بھی 118 روپے 70 میں ڈالر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ 118 روپے 40 پیسے میں قوت خرید کا اظہار کیا۔

ای سی اے پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ‘ای سی اے پی کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا لیکن متعدد مرتبہ غلطی دہرانے پر کیسز ایس بی پی میں منتقل کردیا جائےگا’۔

اس حوالے سے واضع رہے کہ دونوں تنظیموں کو کسی رکن پر جرمانہ عائد کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں اور نہ ہی وہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مخصوص کر سکتے ہیں تاہم ایکسچینج کمپنیز کے مطابق خلاف وزری کرنے والے کیرکنیت منسوخ کردی جائےگی۔

ملک بوستان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ڈالر کی رسد کا تعین کرے گا تاہم ڈالر کے ریٹ دن میں دو مرتبہ صبح اور شام کو طلب اور رسد کے تناظر میں تبدیل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے معیشت پر دباؤ کم ہوگا: مودیز

ذخائر میں کمی کے باعث ایس بی پی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب و رسد کے فرق کو پورا نہیں کرسکتا جبکہ ماضی میں سینٹرل بینک ایکسچینج ریٹ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ڈالر فراہم کرتا تھا۔

انٹربینک اور مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں سے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے رقم کے منتقلی کے حجان میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے قانونی طریقے سے زرمبادلہ کے اشاریوں میں فرق پڑ سکتا ہے۔


یہ خبر 26 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی