پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے 17نیوز چینلز کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی غلط خبر نشر کرنے پر جرمانہ عائد کر دیا۔

پیمرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق غلط خبر نشر کرنے والے چینلز کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا جن میں جیو نیوز، رائل نیوز، 92نیوز، دنیا ٹی وی، چینل ۵، آج ٹی وی، دن نیوز، ایکسپریس نیوز، روز ٹی وی، سما ٹی وی، ڈان نیوز، اے آر وائی نیوز، وقت ٹی وی، بول نیوز، کے ٹی این نیوز اور کوہِ نورٹی وی شامل ہیں۔

نجی چینل مشرق ٹی وی کو مذکورہ خبر کا غلط ٹکر چلانے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پیمرا نے ان تمام 17 چینلز کو 19 اپریل 2018 کو اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی شنوائی کے لیے 24 اپریل کو طلب کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ تحریری جوابات داخل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق فیصلہ: ’باقاعدہ جعلی خبر چلوائی اور عدلیہ پر حملہ کیا گیا‘

اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تمام چینلز کو 6 مئی 2018 کو پرائم ٹائم کے دوران معذرت نشر کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

پیمرا نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تمام چینلز اپنے تاخیری نظام کو موثر بنائیں اور ضابطۂ اخلاق کی پیروی کے لیے ادارہ جاتی نگران کمیٹی تشکیل دیا جائے اور موثربنایا جائے۔

اعلامیے میں واضح کردیا گیا ہے کہ فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے (ترمیم شدہ) ایکٹ 2007 کی سیکشن 30 کے تحت چینلز کے لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔

یاد رہے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اخباروں اور ٹی وی چینلز میں چلنے والی خبروں پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان خود نوٹس لے کر ایک ہی دن میں نوٹس کو نمٹا دیا تھا اور واضح کردیا تھا کہ عدالت کے فیصلے میں کہیں بھی نواز شریف یا مریم نواز کا ذکر نہیں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ازخود نوٹس کی سماعت کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی بلکہ عدالت نے آرٹیکل 19 اور 68 کے تحت پیمرا کو کام کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے پیمرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے استفسار کیا کہ پیمرا نے اس معاملے پر ایکشن کیوں نہیں لیا، جس پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ 27 مارچ کو عہدے کا چارج سنبھالا اور مختلف ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کیے۔

دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ حکم کچھ اور جاری کیا گیا جبکہ پورے ملک میں ڈھنڈورا کسی اور چیز کا پیٹا گیا، کسی نے باقاعدہ جعلی خبر چلوائی اور عدلیہ پر حملہ کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اتنا اچھا حکم جاری کیا اور یہ فیصلہ بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہے۔