اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کی نظرثانی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟

اٹارنی جنرل نے تفصیلات پیش کرنے کے لیے دو دن کی مہلت مانگی تو عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کل تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت مرزا اسلم بیگ نے دلائل دیئے کہ 1975 میں ذوالفقار بھٹو نے نوٹی فکیشن جاری کیا کہ آئی ایس آئی پولٹیکل سیل قائم کرے جس پر سیل قائم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’یونس حبیب نے سندھ رجمنٹ میں مسجد کی تعمیر کروائی تھی، مسجد کی افتتاحی تقریب میں نے کی اس وقت یونس حبیب وہاں موجود تھے، میں یونس حبیب کو اس کے علاوہ نہیں جانتا۔‘

اسد درانی کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیئے کہ ان کے موکل بحیثیت آرمی افسر، اعلیٰ افسران کے احکامات کے پابند تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اصغر خان کیس: ’وزیراعظم کا بیان ریکارڈ‘

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ 18 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے گئے ہیں، 12 افراد فوت ہو چکے ہیں، جبکہ 16 بے نامی اکاؤنٹس میں سے 6 اکاؤنٹس سے 14 کروڑ روپے منتقل ہوئے۔

چیف جسٹس کی ہدایت پر مرحوم ایئر مارشل اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، اصغر خان نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔

انہوں نے بتایا کہ مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی روگردانی کی گئی، عدالت نے 2012 میں کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جبکہ رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت نے اسلم بیگ اور اسد درانی کی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے اور اٹارنی جنرل کو منگل (کل) طلب کر لیا۔