کراچی: خاتون مذہبی اسکالر کی طالبہ کو قتل کرکے خودکشی

اپ ڈیٹ 07 مئ 2018

ای میل

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں مذہبی تعلیم دینے والی خاتون نے اپنے بھائی کے لیے رشتہ سے انکار پر اپنی طالبہ کو قتل کرکے خودکشی کرلی۔

پولیس کے مطابق نارتھ ناظم آباد میں حیدری پولیس اسٹیشن کی حدود میں مذہبی تعلیم دینے والی خاتون نے اپنے بھائی کے لیے رشتہ سے انکار پر اپنی طالبہ کو قتل کرنے کے بعد اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔

پولیس نے کہا کہ 24 سالہ نسرین خالد 16 سالہ طالبہ رابعہ کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے نارتھ ناظم آباد کے بلاک ’ایچ‘ میں واقع اس کے گھر گئی جہاں اس نے رابعہ کو فائرنگ کرکے قتل کو پھر خود کو بھی گولی مار لی، جس سے دونوں کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ نسرین خالد عالمہ (مذہبی اسکالر) تھی جو رابعہ کو قرآن کی تعلیم دیتی تھی۔

نسرین نے اپنے بھائی کی شادی کے لیے رابعہ کا رشتہ مانگا تھا، تاہم طالبہ کے والدین نے رشتے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں رشتے سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ قتل

تین روز قبل رابعہ کی کسی دوسرے شخص سے منگنی کرادی گئی، جس پر نسرین کو شدید غصہ آیا اور اس نے یہ قدم اٹھایا۔

نسرین کا تعلق کاکاخیل قبیلے سے تھا جبکہ رابعہ مہمند قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔

ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) آپریشنز ویسٹ زون ناصر بخاری نے ڈان کو بتایا کہ تفتیش کاروں کو جائے وقوع سے 30 بور پستول کے چار خول ملے جبکہ پستول بھی قبضے میں لے لی گئی۔

رابعہ کو سر میں گولی ماری گئی جبکہ نسرین نے خود کو سینے میں گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔

ناصر بخاری کا کہنا تھا کہ پولیس کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے لاشوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ رابعہ کے خاندان کا کہنا تھا کہ ان کی خواتین سخت پردے میں رہتی ہیں اس لیے وہ مرد پولیس اہلکاروں کو گھر میں داخل ہونے یا لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید پڑھیں: نوشہرہ: ساتھ چلنے سے انکار،ملزم نے لڑکی اور اس کے والد کو قتل کردیا

کراچی ویسٹ زون کے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے ڈان کو بتایا کہ بظاہر معاملات ’شک‘ میں ڈالنے والے ہیں، تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ معاملے میں ’جذبات‘ کا عمل دخل ہے اور چونکہ خاتون اور طالبہ دونوں کا تعلق پختون خاندانوں سے ہے، اس لیے ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہم تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی واقعے پر کوئی تبصرہ کریں گے۔