اسلام آباد: پاکستان نے عالمی تجارتی تنطیم کے تحت قائم 41 ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے بلاک میں شمولیت اختیار کرلی جس کا مقصد عالمی خوشحالی و ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ایک کثیرالجہتی تجارتی نظام کو فروغ دینا ہے۔

واضح رہے اس غیرمعمولی بلاک کا قیام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر لگائی گئی تجارتی پابندیوں کے ضمن میں عمل میں آیا ہے۔

اس بارے میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے لیے پاکستانی سفیر ڈاکٹر توقیر شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کثیرالجہتی نظام کے تحت قائم اس گروپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور پاکستان اس کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی تجارت کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اصولوں پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ تمام ارکان کی جانب سے 2017 میں عالمی تجارتی نظام کی بحالی کا خیر مقدم کیا گیا، جس میں تمام ممالک نے حصہ لیا اور ڈبلیو ٹی او کے بارے میں کی گئی آئندہ 2 سالہ پیش گوئی میں اس کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

اس سلسلے میں رکن ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ، ارکان تجارتی کشیدگیوں میں اضافے اور کثیرالجہتی تجارتی نظام کو لاحق خطرات کے حوالے تحفظات رکھتے تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے ڈبلیو ٹی او کے ارکان کو خطرات میں اضافے کو نظر انداز کرنے اور اس حوالے سے تحفظ پسند اقدامات سے گریز کرنے پرآمادہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم نے ریاستوں کو باہمی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کرنے اور تعاون بڑھانے کا کہا، اور اس ضمن میں تنازعات کے حل کے لیے ڈبلیو ٹی او کا موثر پلیٹ فارم کارگر ثابت ہوگا۔

مزید پڑھیں: ‘تجارتی جنگ میں کوئی فتحیاب نہیں ہوسکے گا‘

مذکورہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ارکان کا خیال ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے خاص طور پر مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں پیش آنے والی مشکلات اور تجارتی اور ترقی کے مختلف معیارات کو مدنظر رکھا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تنازعات کے حل کے نظام کے پیشِ نظر اپیلوں کی وصولی کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی موجودہ اور مستقبل کی تمام خالی جگہوں کو پر رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تنظیم کو موثر رکھنے کے لیے ہم تمام ارکان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اقدامات کریں گے، جو نمائندہ ریاستوں کے لیے موثر اور قابلِ عمل ہوں۔

اعلامیہ میں رکن ممالک نے عہد کیا کہ عالمی تجارتی تنظیم کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رہے گا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 10 مئی 2018 کو شائع ہوئی۔