سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حاضر سروس جج کے خلاف دائر شکایت کا جائزہ ان کیمرہ لیا جائے گا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اوپن ٹرائل کے لیے درخواستوں کو سپریم جوڈیشل کونسل دوبارہ زیرِ غور لائے اور اپنے پہلے والے فیصلے سے قطع نظر درخواستیں سنے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سپریم جوڈیشل کونسل نے دونوں جج صاحبان کے خلاف درخواستیں مسترد کر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اوپن ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حاضر سروس جج کا ٹرائل کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ ٹرائل کا سامنا کرنے والے جج پر منحصر ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کرنے والا جج چاہے تو اس کا ٹرائل کھلی عدالت میں ہوسکتا ہے، تاہم کھلی عدالت میں کارروائی کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید سے مشروط ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ججوں کا مواخذہ کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل کی حیثیت منفرد نوعیت کی ہے، یہ عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا ٹربیونل ہے، اور اس فورم پر ہونے والی کارروائی کے دو حصے ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جج کے خلاف شکایت سمیت اس بات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے کہ الزامات کا سامنا کرنے والے جج کو نوٹس جاری کرنا ہے یا نہیں۔

دوسرے مرحلے میں جج کے خلاف انکوائری کی جاتی ہے، تاہم عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوسرے مرحلے کو کھلی عدالت میں سننے کا معاملہ کونسل اور جج کی رضامندی سے مشروط کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بعد خود کو اوپن ٹرائل کے لیے پیش کردیا تھا اور سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں چھپایا ان کی عزت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔