ملکا شراوت ’کانز‘ میں قید

اپ ڈیٹ 29 جون 2019

ای میل

اداکارہ نے سماجی تنظیم کی جانب سے احتجاج کیا—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ نے سماجی تنظیم کی جانب سے احتجاج کیا—فوٹو: انسٹاگرام

ویسے تو فرانس میں ہونے والے دنیا کے سب سے فیشن فلمی میلے ’کانز‘ میں اداکاراؤں کی جلوے بکھیرنے والی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ تاہم اس فلمی میلے میں اداکاراؤں کی احتجاج کرنے کی تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔

’کانز‘ فلمی میلے کے ریڈ کارپٹ پر جہاں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان، بولی وڈ حسیناؤں ایشوریا رائے، دپیکا پڈوکون، پریانکا چوپڑا، ہما قریشی، کنگنا رناوٹ اور ملکا شراوت نے جلوے بکھیرے۔

وہیں اداکارہ ملکا شراوت نے ’کانز‘ میلے میں خود کو جیل نما پنجرے میں قید کرکے دنیا بھر کے فوٹوگرافرز کی خوب توجہ حاصل کی۔

جی ہاں، 71 ویں کانز فلمی میلے میں بولی وڈ اداکارہ ملکا شراوت نے بھارت کی نجی سماجی تنظیم ’فری اے گرل انڈیا‘ کی جانب سے بچیوں، کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، انہیں ریپ اور تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف منفرد احتجاج کیا۔

اداکارہ نے دنیا بھر کے افراد کی توجہ حاصل کرنے اور خواتین کے خلاف جاری تشدد کو روکنے کے لیے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے خود کو جیل نما پنجرے میں قید کرکے خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

—فوٹو: انسٹاگرام
—فوٹو: انسٹاگرام

خود کو پنجرے میں قید کرنے کے بعد ملکا شراوت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے منٹ میں خواتین اور بچیوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے خود کو پنجرے میں قید کرنے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ قدم ان سیکڑوں قید اور ظلم برداشت کرتی خواتین کو انصاف دلانے کے لیے اٹھایا ہے اور یہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے مقابلے انتہائی چھوٹا قدم ہے۔

—فوٹو: انسٹاگرام
—فوٹو: انسٹاگرام

ملکا شراوت نے ’کانز‘ میں خود کو پنجرے میں قید کرکے احتجاج کرنے سے قبل ریڈ کارپٹ پر جلوے بھی بکھیرے۔

اس دوران اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 9 سال سے کانز میں شرکت کرتی آ رہی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ خواتین و بچیوں کے حقوق سمیت انسانی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کی ہے۔