اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیز (جی آئی ڈی سی) میں طے شدہ معاہدے کے تحت سی این جی اسٹیشنز مالکان سے 12 ارب کے بقایا جات وصول کرنے کے لیے ترمیم منظور کرلی گئی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس ترمیم کے پس پردہ مبینہ طور پر کسی مشکوک ڈیل کا امکان ظاہر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے سینیٹرز کو فوائد حاصل ہوں گے۔

سینیٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر کا کہنا تھا کہ سی این جی اسٹیشنز مالکان 62 ارب روپے صارفین سے حاصل کر کے محض 12 ارب حکومت کو دے رہے ہیں، کیا ہم کسی لابی کے لیے کام کررہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: سی این جی کی قیمت 81 روپے 70 پیسے مقرر کردی گئی

سینیٹر محسن عزیز کا موقف تھا کہ مذکورہ بل کو تحتقیقات کے لیے سینیٹ کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے۔

جبکہ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل کا کہنا تھا کہ سی این جی اسٹیشنز مالکان کی جانب سے جی آئی ڈی سی کے خلاف عدالتوں میں ہزاروں کی تعداد میں مقدمے کرکے حکم امتناع حاصل کیا گیا ہے جبکہ حکومت سے طے پانے والے سمجھوتے میں انہوں نے 12 ارب روپے کے بقایا جات ادا کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا، اس ضمن میں 19 ارب روپے کے بقایا جات پہلے ہی ادا کیے جاچکے ہیں۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اس میں مجھے کسی بدعنوانی کا علم نہیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ بدعنوانی ہوئی ہے تو نیب سے رجوع کریں۔

مزید پڑھیں: سی این جی قیمت مقرر کرنے کا اختیار مالکان کو دے دیا گیا

سینیٹ اراکین نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر کے بل کی منظوری اور مخالفت میں ووٹ دیئے، جس میں 35 ووٹ حق میں جبکہ 16 ووٹ مخالفت میں آئے، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت اور پاکستانی پیپلز پارٹی نے حق میں ووٹ دیئے۔

ایک حکومتی عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے تحت اگر سی این جی اسٹیشنز مالکان جی آئی ڈی سی میں ترمیم کی منظوری کے وقت سے لے 3 ماہ کی مدت میں اور 2 اقساط کی صورت میں 12 ارب روپے جمع کرا دیتے ہیں تو انہیں 7 ارب روپے کی چھوٹ دی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سی این جی اسٹیشنز مالکان جی آئی ڈی سی ایکٹ سال 2015 کے تحت صارفین سے جی آئی ڈی سی وصول کررہے ہیں جب سی این جی کی قیمتیں آئیل اینڈ ریگولیٹری اٹھارٹی(اوگرا) کی جانب سے مقرر کی جاتی تھیں، لیکن عدالتی احکامات کے باوجود وہ رقم وفاقی حکومت کو ادا نہیں کی جارہی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول استعمال کریں یا سی این جی؟

سینیٹ میں انسانی اسمگلنگ، بطور خاص خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کو ہنگامی طور پر روکنے کے لیے بھی بل منظور کیا گیا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے معاملہ اٹھایا گیا کہ الیکشن سے پہلے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے انگوٹھے کی نشان سے ووٹر رجسٹریشن کی تصدیق کی فیس میں 150 فیصد اضافہ کردیا۔

ادھر جماعت اسلامی کے سینیٹر نے ایوان کی توجہ گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے میں امریکی دفاعی اتاشی کے فرار کی جانب دلائی، جس کا نام عدالت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سلسلے میں قائم مقام چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس میں وزارت خارجہ سے اس معاملے پر حکومتی موقف کے بارے میں پوچھا جائے گا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 16 مئی 2018 کو شائع ہوئی