لاہور: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر قومی کمیشن بنانے کے مطالبے کی جہاں ایک جانب حمایت کی گئی تو وہی اپوزیشن کی جانب سے اس مطالبے کو مسترد کردیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کا ماننا ہے کہ یہ مطالبہ پاناما کیس پر آنے والے عدالتی فیصلے کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہا اگر پارلیمان کو لگتا ہے تو وہ اس معاملے مفاہمتی کمیشن تشکیل دے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ پاناما کیس کے فیصلے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا سیاسی مستقبل اب کیا موڑ اختیار کرنے جارہا ہے؟

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا مطالبہ لوگوں کی پاناما کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے اور وہ اس لیے یہ ڈرامہ کر رہے کہ وہ سزا سے بچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اس وقت کمیشن کیوں نہیں بنایا جب وہ خود وزیر اعظم تھے؟ اور اب ایک بحث کا آغاز کرکے وہ ملک دشمنوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہیں کیونکہ نواز شریف کا بیان صرف مسترد کرنا کافی نہیں، کمیٹی کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اجلاس بلائے اور سابق وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کرے۔

خیال رہے کہ ڈان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جب نواز شریف سے پوچھا گیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس بارے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

اس بیان کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا تھا جبکہ پاک فوج کی تجویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں نواز شریف کے بیان کو گمراہ کن قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے بیان پر اپوزیشن کا ردِ عمل

تاہم نواز شریف کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کردیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ اعلامیہ تکلیف دہ ہے۔

اس بارے میں پی پی پی کے سینئر نائب صدر میاں منظور احمد وٹو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیان اور کمیشن کے مطالبے سے نواز شریف 2 فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں، پہلا یہ کہ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کرپشن ریفرنس میں ان کی ممکنہ سزا کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مجبور کیا جارہا جبکہ دوسرا وہ بین الاقوامی برادری کو یہ دکھا کر ہمدردیاں لینا چاہتے ہیں کہ وہ غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے سنجیدہ تھے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے کمیشن کے بیان کی حمایت پر انہوں نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں اس تجویز کی حمایت کریں گی تو ہی پارلیمان اس طرح کی باڈی تشکیل دے گی۔