پیرس: فرانسیسی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکا، ایران کے خلاف پابندیوں کو دوبارہ لگاتے ہوئے پہلے مرحلے میں گاڑیوں اور سول ایوی ایشن کے شعبے پر اس کا اطلاق کرنا چاہتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ختم کیے جانے کے بعد توانائی اور معاشیات کے شعبے پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو سزائیں دی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: ایران امریکی جوہری معاہدہ ختم، خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

ذرائع کے مطابق 6 اگست کو گاڑیوں اور سول ایوی ایشن کے شعبے پر پابندی عائد کرنے کے بعد 4 نومبر کو توانائی، آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکلز کے شعبے پر پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایرانی خام تیل کی درآمدات کو کم کرنے کے لیے اعتراضات لگائے جائیں گے اور ایران کے ساتھ کسی بھی کمرشل آپریشن اور توانائی کے تبادلے پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے 15 امریکی کمپنیوں پر پابندی لگادی

انہوں نے مزید کہا کہ اس ہی دن پابندیوں کو مالیاتی شعبے تک بڑھایا جائے گا جس میں سینٹرل بینک سمیت تمام بڑے مالیاتی اداروں سے لین دین اور پیغامی نظام، جیسے بین الاقوامی بینکنگ سسٹم سوئفٹ پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ امریکی کمپنیوں کے ماتحت اداروں کو ایران سے ڈیل کرنے کی اجازت دینے والا نام نہاد ’جنرل لائسنس ایچ‘ کو بھی ختم کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نئی امریکی پابندیاں: ایران کا میزائل پروگرام جاری رکھنے کا اعلان

واشنگٹن نے کمپنیوں کو ایران سے معاہدوں کے خاتمے کے لیے 90 سے 180 دن کا وقت دیا ہے اور انہیں نئی پابندیوں کے تحت نئے کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 16 مئی 2018 کو شائع ہوئی