واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رمضان کی آمد کے موقع پر غیر متوقع طور پر ایک خوشگوار پیغام سامنے آیا ہے، جس میں امریکی مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کا کہنا تھا کہ مسلمان، امریکا میں بغیر کسی حکومتی رکاوٹ کے آزادانہ طور پر رمضان کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے کے موقع پر امریکی صدور کی جانب سے خیرسگالی کے پیغامات دینے کی روایت قائم ہے تاہم اس حوالے سے گزشتہ برس دیئے گئے اپنے پہلے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی میں اضافے کا ذکر کر کے امریکی مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی، تاہم حالیہ بیان میں انہوں نے کسی قسم کے متنازع مسئلے کے بیان سے گریز کیا۔

اس سلسلے میں وہ مسلمانوں کو باور کرانا نہیں بھولے کہ کس طرح امریکی آئین ان کو حاصل مذہبی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلا روزہ 17 مئی کو ہوگا یا 18 کو؟

بیان میں کہا گیا کہ’امریکا میں ہم سب خوش قسمتی سے ایک ایسے آئین کے تحت رہ رہے ہیں جو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے اور مذہبی فرائض کی ادائیگی کا احترام کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ مسلمان رمضان کو اس کی اصل روح کے ساتھ کسی حکومتی رکاوٹ کے بغیر گزاریں، آئین میں دی گئیں ضمانتیں، امریکیوں کو انسانی روح کو گہرائی سے جاننے کے لیے بھی مواقع فراہم کرتی ہیں۔

ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس مقدس مہینے میں روزہ رکھتی، فلاحی کاموں میں حصہ لیتی، عبادت اور قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: موسم گرما میں رمضان: ان 8 طریقوں سے جسم تیار کریں

ٹرمپ نے اپنے بیان میں مسلمان برادری کو ’رمضان مبارک‘ کہتے ہوئے کہا کہ رمضان ہمیں امریکی زندگی کے مذہبی رنگوں میں مسلمانوں کے رنگ کی یاد دلاتا ہے۔

اس ضمن میں یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر کی جانب سے رمضان کے موقع پر دیئے گئے بیان کو دہشت گردی کے مسئلے سے منسلک کرنے پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا۔

امریکی صدر نے گزشتہ برس اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اس سال مقدس ماہ کا آغاز ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا مصر اور برطانیہ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں پر سوگ منا رہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی جانب سے مسلمان مخالف ویڈیوز 'ری ٹویٹ'

ان کا مزید کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہونے کا یہ عمل براہ راست رمضان کی روح کے خلاف ہے، اس طرح کی کارروائیاں صرف دہشت گردی اور اس کے نظریات کو شکست دینے کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔

مزید یہ کہ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد سے اب تک ٹرمپ کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ متنازع ہی رہے ہیں، حلف اٹھانے کے صرف ایک ماہ بعد ہی انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا سفر کرنے پر پابندی لگادی تھی، جس کے بعد احتجاج اور قانونی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 16 مئی 2018 کو شائع ہوئی