کولالمپور: ملائیشیا کی انقلابی شخصیت اور نومنتخب وزیرِاعظم مہاتیر محمد کے ممکنہ جانشین انور ابراہیم کو جیل سے رہا کردیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی رہائی کے بعد انور ابراہیم نے اس فیصلے کو ’ملائیشیا کے لیے ایک نئی صبح‘ قرار دیا اور ساتھ ہی قومی سیاست میں واپسی کا اعلان کردیا۔

رہائی کے موقع پر انہوں نے سیکڑوں صحافیوں اور اپنے حمایتیوں کے سامنے اس بات کا عہد کیا کہ وہ ملک کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ہیں۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا: مہاتیر محمد نے سابق وزیراعظم پر سفری پابندی لگادی

اس کے علاوہ انور ابراہیم نے اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کے نو منتخب وزیرِاعظم مہاتیر محمد کو معاف کردیا، جنہوں نے انقلابی رہنما کو دو دہائی قبل جیل بھیج دیا تھا، تاہم اب وہ نئے وزیراعظم کے خلافِ توقع اتحادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملائیشیا کے لیے ایک نئی صبح ہے اور میں اس موقع پر ملائیشیا کے عوام کا شکر گزار ہوں۔

انور ابراہیم کا مزید کہنا تھا کہ ملائیشیا کا ماحول کسی مذہب یا نسل سے بالا تر ہوکر جمہوریت اور آزادی پر مبنی ہے کیونکہ ملائیشیا کے عوام تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ انور ابراہیم بریسن نیشنل (بی این) کے اقتدار کے دور میں مہاتیر محمد کے قریبی اور اہم ساتھی شمار کیے جاتے تھے تاہم اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزام میں انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا:مہاتیر محمد نے 60 برس سے برسرِ اقتدار جماعت کو شکست دیدی

اپنی رہائی کے بعد انور ابراہیم نے بی این کو شکست دینے والے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا۔

انور ابراہیم کی رہائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ حکومت کو چند سال چلا سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اشارہ دیا کہ مستقبل میں کولالمپور کی باگ دوڑ انقلابی رہنما کے ہی ہاتھ میں ہوگی۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ ان کے اور مہاتیر محمد کے اختلافات پرانے ہوچکے ہیں اور اب دونوں رہنماؤں کا مقصد حکومتی اصلاح اور ملائیشیا سے کرپشن کا خاتمہ ہے جس میں مبینہ طور پر سابق وزیراعظم نجیب رزاق بھی ملوث تھے۔

مزید پڑھیں: مہاتیر محمد، ملائیشیا کا نجات دہندہ یا مسائل کی جڑ

یاد رہے کہ رواں ماہ ملائیشیا کے عام انتخابات میں 92 سالہ مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکمراں جماعت بی این اور اس کے اتحادیوں کے 60 سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا۔

انتخابات کے نتائج کو ملائیشیا کی تاریخ میں خطرناک سیاسی زلزلہ قرار دیا گیا جس میں سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی حکومت کو شکست ہوئی۔