غزہ پٹی پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے نہتے فلسطینیوں کی ہلاکت پر بڑھنے والی کشیدگی کے بعد ترکی اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے سفیروں کو اپنے ملک سے جانے کا کہہ دیا۔

پریس ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انقرہ کے لیے اسرائیل کے سفیر ایتان ناہی کو کہا گیا کہ مناسب ہوگا کہ اگر وہ کچھ وقت کے لیے مقبوضہ علاقوں میں واپس لوٹ جائیں۔

اس بیان کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی وزیر برائے خارجہ امور کی جانب سے جوابی بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ یروشلم (بیت المقدس) میں موجود ترکی کے قونصل جنرل یرجان ترکولو کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ ‘کچھ وقت کو مشاورت کے لیے ترکی واپس چلے جائیں’۔

مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 62 ہوگئی

اس کے جواب میں دوبارہ ترکی کی حکومت نے استنبول میں اسرائیلی قونصل جنرل یوسی لیوی سفاری کو طلب کیا اور انہیں ملک چھوڑنے کا کہہ دیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر فائرنگ اور شیلنگ سے 62 فلسطینیوں کی اموات پر اور بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ کھولنے پر احتجاج کرتے ہوئے ترکی نے اپنے سفیروں کو تل ابیب اور واشنگٹن سے واپس بلا لیا تھا۔

اس کے علاوہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیوں کا اشارہ بھی دے دیا۔

دوسری جانب فلسطینی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار صائب عریقات کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکا میں تعینات فلسطینی مندوب کو واپس بلا لیا۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق صائب عریقات کا کہنا تھا کہ امریکا میں متعین تنظیم آزادی فلسطین کے مندوب حسام زملط کو امریکا کی جانب سے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد واپس بلایا گیا۔

ادھر امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کو سعودی عرب نے بھی مسترد کردیا۔

سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزراء کونسل کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کرنے کے مترداف ہیں کیونکہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی شہریوں کو اپنی سرزمین کے حصول کا حق حاصل ہے۔

کونسل کا کہنا تھا سعودی حکومت کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اس طرح کا غیر منصفانہ فیصلہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا بیت المقدس سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے، عرب لیگ

علاوہ ازیں سعودی فرماں روا کی جانب سے اسرائیلی فوج کی وحشانیہ فائرنگ اور طاقت کے استعمال سے نہتے فلسطینیوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو فون کیا اور معصوم فلسطینیوں کی اموات پر دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے زخمی افراد کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

سعودی فرماں روا کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کے لیے ریاست کی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

اس کے علاوہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات یقینی بنانے کے لیے عرب لیگ کے وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ پیر کو اسرائیلی سرحد سے ملحقہ غزہ پٹی پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ اور شیلنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں 62 فلسطینی جاں بحق جبکہ 2700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

بعد ازاں اسرائیلی جارحیت کے خلاف امریکا سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا جبکہ کچھ ملکوں نے اپنے سفیروں کو اسرائیل سے واپس بھی بلا لیا تھا۔