ٹوکیو: جاپان کی سیکڑوں خواتین صحافیوں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف متحد ہوکر تحریک کا آغاز کردیا۔

اس حوالے سے جاپان میں موجود ایک خاتون صحافی یوشیکو ہیاشی کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا میں جنسی طور پر ہراساں کرنے واقعات کے خلاف لڑںے کے لیے ایک ٹیم تیار کررہی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ایسے ملک میں جہاں ’می ٹو‘ تحریک کافی دیر میں پروان چڑھی وہاں ایسی چیزوں کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

فری لانسر یوشیکو ہیاشی کا کہنا تھا کہ 86 خواتین صحافیوں نے مل کر وومن ان میڈیا نیٹ ورک جاپان (ڈبلیو آئی ایم این) قائم کی ہے تاکہ ہراساں کرنے اور بدتمیزی کے واقعات کو بے نقاب کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے لوگوں اور اداروں میں خواتین اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف تفریق موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں، جن کی آواز کو سنا نہیں جاتا اور صحافت میں بہت سی ایسی خواتین ہیں، جو اپنی آواز اٹھانے میں مشکل کا سامنا کرتی ہیں کیونکہ انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ڈر ہوتا ہے کہ ان کے رشتوں کو نقصان پہنچے گا۔


یہ خبر 16 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی