اسلام آباد: اصغر خان کیس میں سابق آرمی چیف اسلم بیگ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اسلم بیگ سے آئی جے آئی بنانے اور رقوم کی تقسیم کے حوالے سے سوال کیے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف ایک گھنٹے سے زائد تک کمیٹی کے سامنے موجود رہے اور اس دوران ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اصغر خان کیس: فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ایف آئی اے کی کمیٹی تشکیل

واضح رہے کہ اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا کہ انٹر سروس انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی ) اسد درانی کا بیان بھی 16 مئی کو ریکارڈ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایف آئی اے کی جانب سے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی اور اسے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔

اس سے قبل 8 مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہییے۔

اصغر خان کیس

یاد رہے کہ 1990 میں انتخابات میں دھاندلی کے لیے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق اس وقت کے ایئرفورس کے سربراہ اصغر خان نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا تھا۔

بعد ازاں 2012 میں اس کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے کیسز کی تیاری کرے۔