فلسطینی اتھارٹی نے رومانیا، جمہوریہ چیک، ہنگری اور آسٹریا کے سفیروں کی، امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی سے متعلق اسرائیل کی تقریب میں شرکت کرنے پر ان ممالک سے اپنے ایلچیوں کو واپس بلا لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ان یورپی ممالک کے سفیروں نے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے آغاز سے ایک روز قبل اسرائیل کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’وزارت، سفیروں کی اس شرکت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں نے سنگین خلاف ورزی سمجھتی ہے، جن کے تحت 1967 سے یروشلم پر اسرائیل کے قبضے کی تصدیق اور دیگر ممالک کو اپنی سفارتخانے یروشلم منتقل نہ کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سفیروں کی واپسی کا مقصد ان سے ان ممالک کی پوزیشن اور ان کے عزائم سے متعلق مشاورت کرنا ہے۔‘

واضح رہے کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے گزشتہ روز واشنگٹن سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

مزید پڑھیں: درجنوں فلسطینیوں کا قتل: ترکی نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے جانے کا کہہ دیا

سفارتخانے کی منتقلی اور امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر فلسطینی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، جو اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی شہر کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالخلافہ سمجھتے ہیں۔

یورپی یونین نے بھی امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے اقدام کی مخالفت کی تھی۔

امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر غزہ کی سرحدی پٹی پر ہزاروں فلسطینی عوام نے مظاہرہ کیا، جس دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 62 فلسطینی ہلاک ہوئے۔