قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش نہ ہو سکے اور طے شدہ مصروفیات کے باعث پیشی کے لیے مزید مہلت مانگ لی جس کے بعد کمیٹی نے 22 مئی کو طلب کرلیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں چیئرمین نیب کو طلب کرنے کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین میں تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کی مخالفت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے کہا کہ چیئرمین نیب نے ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے شخص کی نہ صرف تذلیل کی بلکہ ان پر گمراہ کن الزامات عائد کیے اس لیے ان سے وضاحت لینا ضروری ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس وقت ماحول خراب ہوا جب کارروائی کی فوٹیج بنانے پر مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں عبدالمنان نے صحافیوں سے ہاتھا پائی کی کوشش کی لیکن کمیٹی کے دیگر ارکان نے بیچ بچاﺅ کرا دیا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے چیئرمین کمیٹی کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا چینل کا رپورٹر فوٹیج بنا رہا ہے اگر فوٹیج بنانے کی اجازت دینی ہے تو سب چینلز کو دی جائے۔

صحافیوں نے میاں عبدالمنان کے خلاف شدید احتجاج کیا تاہم چیئرمین کمیٹی اور دیگر ارکان کی طرف سے معذرت پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

کمیٹی میں نیب کی طرف سے ڈی جی راولپنڈی عرفان نعیم منگی پیش ہوئے اورکمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین نیب سرکاری مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرسکے اور انہوں نے مجھے اس لیے بھیجا ہے تاکہ آئندہ اجلاس کےلیے وقت مانگ سکوں۔

مزید پڑھیں:نوازشریف پر منی لانڈرنگ کا الزام، نیب چیئرمین قائمہ کمیٹی میں طلب

عرفان نعیم منگی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ آئندہ اجلاس کے لیے کوئی تاریخ دیں تو چیئرمین نیب حاضر ہوں گے جس پر کمیٹی ارکان نے اجلاس جمعہ کو طلب کرنے کا مشورہ دیا تو عرفان نعیم منگی نے کہا کہ اگر جمعے کی بجائے آئندہ ہفتے کا کوئی دن مقرر کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔

بعد ازاں کمیٹی نے اجلاس 22 مئی کو طلب کرلیا اور چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کو آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چوہدری اشرف نے ارکان کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے مجھے خط لکھا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکوں گا لہٰذا اجلاس کی تاریخ آگے کر دی جائے، کمیٹی نے چیئرمین نیب کی طرف سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی درخواست منظور کرلی۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا معاملہ کس نے بھجوایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک کسی پر کوئی الزام ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک اخبارات میں خبر جاری نہیں کرنی چاہیے، نیب کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کا میں بھی مخالف ہوں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔

اس موقع پر وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم نیب اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں لیکن یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پریس ریلیز اور ٹویٹ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج نواز شریف کو غدار کہا جا رہا ہے، نواز شریف کو کمیٹی میں طلب کرلیں وہ آجائیں گے کیونکہ نواز شریف کو آج کہاں نہیں بلایا جا رہا وہ روزانہ ماتحت عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کی تکریم اور عزت کےلیے جدوجہد کررہی ہے۔