اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات نے 30 وزارتوں اور ڈویژنز کو اردو میں خط و کتابت کرنے کے احکامات جاری کردیئے کیونکہ کمیٹی کے بیشتر ارکان کو انگریزی پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینیٹر اور کمیٹی کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی زبان اردو ہونے کے باوجود تمام تر خط و کتابت انگریزی میں کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ کمیٹی کا اجلاس، تمام صوبوں کے پسماندہ علاقوں اور قبائلی علاقہ جات میں درپیش مسائل پر غور و فکر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری خط و کتابت اردو میں شروع

اس حوالے سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولوی فیاض کا کہنا تھا کہ ان سے کی گئی خط و کتابت انگریزی زبان میں تھی، جسے وہ سمجھ نہیں سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا اکثر ہوتا ہے اور مجھے انگریزی میں کہی جانے والی باتیں سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، اس لیے میں عربی میں بات کرتا ہوں، میری تجویز ہے کہ اجلاس کی تمام کارروائی اردو میں ہونی چاہیے اسی طرح سینیٹ اجلاس میں بھی مجھے اسی دشواری کا سامنا رہتا ہے اور انگریزی زبان سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

اس پر کمیٹی کے سیکریٹری مغیث احمد شیخ کا کہنا تھا کہ اداروں کی جانب سے اکثر خط و کتابت اردو اور انگلش دونوں میں کی جاتی ہے تاہم اب ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں تمام تر دستاویزات اردو میں پیش کی جائیں، اس کے ساتھ تمام اداروں کو بھی اردو میں خط وکتابت کرنے کے احکامات دے دیئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: نفاذِ اردو میں دشواری کیا ہے؟

اس ضمن میں کمیٹی کے چیئرمین عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ کمیٹی سے اکثر معاملات میں منسلک رہنے والے ڈویژنز اور وزارتوں کی تعداد 30 ہے جنہیں ان احکامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

اس سے قبل اجلاس میں کمیٹی کے رکن فدا محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کے کچھ علاقوں میں تعمیر و ترقی کے نہیں ہوئی ہے اور اگر ہوئی بھی ہے تو یہ وہاں کی ضرورتوں کے مطابق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ہی آئین اور قانون نافذ ہے، لیکن کچھ علاقوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رہنے دیا گیا، اس سلسلے میں ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولتیں مہیا کی جاسکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ سب سے زیادہ معدنی وسائل بلوچستان اور مالاکنڈ ڈویژن سے حاصل کیے جاتے ہیں تاہم پھر بھی یہ علاقے پسماندہ ہیں جبکہ دوسری جانب پنجاب کے 35 اضلاع میں سے صرف 4 اضلاع کا شمار پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے، ان حالات کو تبدیل ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ’اردو‘ کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا گیا

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ زیادہ تر سینیٹرز اس کمیٹی میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کیوں کہ انہیں اس میں کوئی خاص کشش محسوس نہیں ہوئی، لیکن پھر بھی ہم نے کمیٹی کو فعال بنایا اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ عام لوگوں کے مسائل کا حل ممکن ہوسکے۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر حاجی مومن خان آفریدی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کو اپنے اجلاس میں فاٹا میں درپیش تعلیم، صحت اور پانی کے مسئلے پر بھی توجہ دینی چاہیے، جس پر کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر ارکان واقعی پسماندہ علاقوں کے مسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں تو وہ اجلاس میں حاضری کو یقینی بنائیں۔

عثمان کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ رمضان میں ایک اجلاس بجلی کے مسئلے پر بھی بلایا جائے گا اور اس کے بعد باقاعدگی سے ہر ماہ 3 اجلاس منعقد کیے جائیں گئے تا کہ وزارتوں پر کمیٹی کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا جاسکے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 17 مئی 2018 کو شائع ہوئی