واشنگٹن: امریکا سمیت 6 عرب ممالک نے لبنان سے تعلق رکھنے والی عسکری تنظیم حزب اللہ کی قیادت پر پابندیوں کا اعلان کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران پر پابندیاں: پہلے مرحلے میں گاڑیوں اور طیاروں کی صنعت متاثر ہوگی

امریکا اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم ٹیررسٹ فنانسنگ اینڈ ٹارگیٹنگ سینٹر کے مطابق حزب اللہ کی شوریٰ کونسل کے جنرل سیکریٹری حسن نصراللہ پر پابندی لگائی گئی ہے۔

پابندی کی زد میں آنے والوں میں حسن نصراللہ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل نعیم قاسم سمیت شوریٰ کونسل کے 3 دیگر ارکان بھی شامل ہیں جس کے تحت ان کے اثاثے منجمد کردیئے جائیں گے۔

اسی دوران ٹی ایف ٹی سی کے عرب ممالک سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے دیگر 8 افراد پر پابندی کا اعلان کردیا جنہیں امریکا پہلے ہی کالعدم قرار دے چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی ڈرون کی امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کے قریب سے پرواز

واضح رہے کہ ایک سال میں ٹی ایف ٹی سی کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا گیا۔

گزشتہ اکتوبر کو ایک گروپ نے داعش اور یمن میں القاعدہ کے اہم شخصیات پر مشترکہ پابندی کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے اعلامیے میں کہا کہ ‘ٹی ایف ٹی سی نے عالمی سیکیورٹی کے تناظر میں خطے میں ایران اور حزب اللہ کی بڑھتی عملداری کو محدود کیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘شوریٰ کونسل کو نشانہ بنا کر ہماری قوموں نے سیاسی دھڑا اور عالمی دہشت گرد کے فرق کو سمجھ لیا ہے’۔

یہ پڑھیں: مسلم ممالک پر پابندی، ایران کا امریکا کو کرارا جواب

واضح رہے کہ لبنانی انتخابات میں حزب اللہ کو واضح حمایت حاصل ہوئی ہے اور 10 دن بعد ہی سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے پابندیوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔

پابندی کے اعلان کے ساتھ ہی ایران کے مرکزی بینک میں موجود ‘لاکھوں ڈالر’ عراقی بینک کے ذریعے حزب اللہ کو ملنے کا مرحلہ تعطل کا شکار ہو جائے گا۔

اس حوالے سے خیال رہے کہ 8 مئی کو امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا اور امریکی وزیر خزانہ نے گزشتہ روز کہا کہ ایران اور حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے میں استحکام اور امن کے لیے خطرہ ہے۔