بلوچستان کے علاقے خاران میں ہلاک ہونے والے 6 مزدوروں کے لواحقین نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور امداد کے نام پر صرف جھوٹ ہی بولا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خاران میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران لواحقین نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ساتھ دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے پیاروں کو امن و امان کے ساتھ سپردِ خاک کردیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کو دھمکیاں کون دے رہا ہے جس پر لواحقین نے بتایا کہ انہیں مقامی ٹھیکیدار دھمکیاں دے رہا ہے، اسی لیے تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: شرپسندوں کی فائرنگ سے 6 مزدور جاں بحق

لواحقین نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہیں کسی بھی طرح کی امداد نہیں دی گئی، اب تک صرف جھوٹ ہی بولا گیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ’آپ خاموش ہوجائیں ہم آپ کی ادائیگی عدالت کے ذریعے کروائیں گے‘۔

اس موقع پر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی یوفون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مرنے والے افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے معاوضہ دیا جائے گا اور اس کے علاوہ انہیں 3 سال تک 20 ہزار روپے ماہانہ بھی دیا جائے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب حکومت نے بھی متاثرہ خاندانوں کی امداد کا کچھ اعلان کیا ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے اس حوالے سے سمری تیار کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کا بلوچستان میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کرے گی۔

اس کے علاوہ بلوچستان حکومت نے بھی امداد کے پیکیج کی تفصیلات عدالتِ عظمیٰ میں جمع کرادیں۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ حکومتِ بلوچستان مرنے والوں کے لواحقین کو دس لاکھ جبکہ زخمیوں کو 5 لاکھ روپے فی کس ادا کریگی۔

عدالت نے ہدایت دی کہ بلوچستان اور پنجاب حکومتیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑہ کے پاس اکاؤنٹ میں یہ رقوم جمع کروانے کی پابند ہوں گی، جو لواحقین میں رقم تقسیم کرینگے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اوکاڑہ پولیس کو متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 4 مئی کو بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لیجے میں نامعلوم مسلح شرپسندوں کی فائرنگ سے 6 مزدور ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع خاران میں 6 مزدوروں کے قتل پر 5 مئی کو ازخود نوٹس لے لیا تھا۔

کوئٹہ چرچ دھماکے کے متاثرین کو امدادی رقوم نہ ملنے پر ازخود نوٹس کی سماعت

سپریم کورٹ کے جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ چرچ دھماکے میں متاثرین کی عدم ادائیگی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران مسیحی برادری کے ایک نمائندے نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ وزیرِاعظم کے اعلان کردہ پیکیج میں سے 72 لاکھ روپے کم ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کوئٹہ سے استفسار کیا کہ متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی میں اتنا وقت کیوں لگا جس پر ڈی سی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ میڈیکل لیگل رپورٹ (ایم ایل آر) کی تاخیر کی وجہ سے رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: چرچ میں خودکش دھماکا، خواتین سمیت 9 افراد جاں بحق

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ایم ایل آردینے میں اتنا وقت لگتا ہے؟

سپریم کورٹ نے ایم ایل آر میں 5 ماہ لگنے پر معاوضہ ادائیگی کمیٹی کے ممبر سرجن ڈاکٹر علی مردان سے بیان حلفی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 17 دسمبر کو کوئٹہ کے زرغون روڑ میں واقع بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ میں خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔