سپریم کورٹ نے 54 ارب روپے قرضہ معاف کروانے والی 222 کمپنیوں کو 8 جون کو عدالت میں پیشی کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے 13 مئی کو سماعت کے دوران کمیشن کی سفارش پر 222 کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے خیبر بینک، حبیب بینک، آئی ڈی بی پی بینک، نیشنل بینک، نب بینک، ایس ایم ای بینک، یونائیٹڈ بینک، زرعی ترقیاتی بینک کے صدور کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

222 کمپنیوں نے 35 ارب سے زائد کے بنک قرضے معاف کرائے تھے۔

خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جمشید کمیشن نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرانے والی 222 کمپنیوں کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش کی تھی۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ222 کمپنیوں نے 18 اعشاریہ 717 ارب کا قرضہ لیا اور قرضے کی رقم کا 8 اعشاریہ 949 ارب روپے واپس کیے۔

رپورٹ کے مطابق222 کمپنیوں کی جانب اس وقت 11 اعشاریہ 769 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے۔

تفصیلات میں کہا گیا تھا کہ ان کمپنیوں پر بینک سود کی مد میں 23 اعشاریہ 572 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔

کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 620 قرضہ معافی کے مقدمات میں 84 ارب روپے معاف کیے گئے،222 کمپنیوں کے 35 ارب روپے کے قرض سرکلر نمبر 2002/29 کے تحت معاف ہوئے۔