غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر معطل ایم پی ایز کی بحالی معافی سے مشروط

اپ ڈیٹ 20 مئ 2018

ای میل

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے معطل 4 ارکان اسمبلی بجٹ سیشن میں شمولیت سے قبل ایوانِ زریں کے فلور پر شاہدہ رؤف سے معافی مانگیں۔

واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر شاہدہ رؤف نے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور دیگر ارکان صوبائی اسمبلی کے مطالبے پر پی کے میپ کے 4 ارکان کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: تلخ کلامی پر شہلا رضا کا ایم کیو ایم کے رکن کو سندھ اسمبلی سے باہر نکالنے کا حکم

اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی کی غیر حاضری کے باعث شاہدہ رؤف اجلاس کی کارروائی کررہی تھیں کہ پی کے میپ کے 4 ایم پی ایز سید آغا لیاقت، سردار مرتضیٰ، بابر لعل اور نصرت اللہ مشاہدہ رؤف نے ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اپنایا۔

جب شاہدہ رؤف نے ایم پی ایز کو ایوان سے باہر نکل جانے کو کہا تو مذکورہ ارکان اسمبلی نے سارجنٹ سے بھی بدتمیزی کی۔

علاوہ ازیں شاہد رؤف نے پی کے میپ کے 4 ارکان کی رکنیت معطل کردی بعدازاں انہوں نے معطل ارکان صوبائی اسمبلی کو واپس بلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں ان کو اپنے خلاف استعمال کی جانے والی غیر پارلیمانی پر معاف کرتی ہوں’۔

اس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ پی کے میپ کے ارکان کو ان کے رویے پر سخت سزا دی جائے۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی کا آخری اجلاس: 45 منٹ میں 12 بل منظور

جب اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی ایوان زریں میں آئیں تو پی کے میپ سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم نے واقعہ پر معافی طلب کرتے ہوئے معطل ارکان اسمبلی کو واپس بلانے کی درخواست کی۔

پی کے میپ کے رہنما ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معطل ہونے والے ارکان اسمبلی کی جگہ معافی مانگتے ہیں۔

عبدالقدس بزنجو نے کہا کہ اجلاس کے دوران پی کے میپ کے چاروں رہنماؤں نے شرافت کی تمام حدیں عبور کردیں جبکہ بلوچستان اسمبلی میں عزت و احترام سے بات کرنے کی روایت بہت پرانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن احتجاج کا حق رکھتی ہے، جب ہم بھی ان کی جگہ تھے تو اپنے دفاع کے آواز بلند کیا کرتے تھے، ہم نے اتحادی حکومت سے ایک پیسہ وصول نہیں کیا، لیکن پی کے میپ کے چاروں اراکان ہمارے لیے باعث شرم ہیں’۔

یہ دیکھیں: سندھ اسمبلی میں خرم شیر زمان کا انوکھا احتجاج

راحیلہ درانی نے کہا کہ ‘وہ گزشتہ 2 برس سے صوبائی اسمبلی کے امور نبھا رہی ہیں اور ارکان اسمبلی نے ہمیشہ عزت کی ہے لیکن حالیہ واقعہ قابل مذمت ہے’۔

بعدازاں بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر آمادگی کا اظہار کیا کہ اگر معطل ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی رکنیت بحال کروانا چاہتے ہیں تو انہیں شاہدہ رؤف سے معافی مانگنی ہو گی۔


یہ خبر 20 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی