فلم ساز لوک بیسن پر ریپ کا الزام، تحقیقات کا آغاز

اپ ڈیٹ 20 مئ 2018

Email


فرانسیسی فلم ساز لوک بیسن کے خلاف پولیس نے ریپ الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کردیا — فوٹو: اے ایف پی
فرانسیسی فلم ساز لوک بیسن کے خلاف پولیس نے ریپ الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کردیا — فوٹو: اے ایف پی

فرانسیسی پولیس نے فلم ساز لوک بیسن کے خلاف ریپ الزامات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

لیون اور ففتھ ایلیمنٹ فلموں کے 59 سالہ ڈائریکٹر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے پیرس کے ایک ہوٹل میں 27 سالہ اداکارہ کو منشیات دیں اور ان پر حملہ کیا۔

انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ان کے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے میں لگائے جانے والے الزامات کی لوک بیسن نے تردید کی ہے۔

مزید پڑھیں: ملیکہ شراوت ’کانز‘ میں قید

بعد ازاں فلم ساز کے وکیل تھیری مارمبرٹ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لوک بیسن نے الزامات کو مسترد کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے کو ’وہ جانتے ہیں، جس کے ساتھ انہوں نے کبھی نا مناسب سلوک روا نہیں رکھا‘۔

خیال رہے کہ یہ الزامات کانز فلم فیسٹول کے آخری روز سامنے آئے جس میں فلمی صنعت میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ لوک بیسن فرانس کے معروف فلم ساز ہیں، جنہوں نے تقریبا 100 کے قریب فلمیں تحریر، ڈائریکٹ یا پروڈیوس کی ہیں، جن میں لکی، ٹکن اور دی بگ بلیو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کی اہلیہ شوہر کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے پر بول پڑیں

حال ہی میں انہوں نے ایک سائنس فکشن فلم ’والرین‘ کو ڈائریکٹ کیا تھا جو جولائی میں ریلیز کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق فلم ساز اس وقت ملک سے باہر ہیں اور تاحال پولیس نے ان سے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

گزشتہ کافی وقت سے فلم انڈسٹری خصوصی طور پر ہولی وڈ میں مرد و خواتین کو یکساں مواقع اور ایک جیسا معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ خواتین اداکاراؤں کے ساتھ ہونے والے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مہم جاری ہے۔

فلم انڈسٹری میں دیگر معاملات میں بھی خواتین کو نظر انداز کرنے اور ان کے ساتھ مناسب رویہ نہ اپنانے کے خلاف اداکاراؤں اور خاتون پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز نے دنیا کے سب سے بڑے فیشن فلمی میلے ’کانز‘ کے ریڈ کارپٹ پر منفرد انداز میں احتجاج کیا گیا تھا۔

اداکاراؤں و خواتین فلم پروڈیوسرز نے احتجاج کے دوران رقص کرکے اسے نہ صرف منفرد بنایا بلکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئیں تھی۔