شمالی کوریا کی جانب سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی کے باوجود کم جونگ اْن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مجوزہ ملاقات پر اتفاق کرلیا گیا۔

یہ بات جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا: جوہری تنازع ختم کرنے کیلئے اُن کی اِن سے تاریخی ملاقات

مون اور ٹرمپ کے درمیان بیس منٹ تک ٹیلی فون پر بات چیت جاری رہی جس کے حوالے سے جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کی جانب سے تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے خبر دار کیا تھا کہ اگر امریکا نے یکطرفہ طور پر پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے پر مجبور کیا تو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو منسوخ کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ سنگا پور میں امریکا کے ساتھ ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے کے حوالے سے پیانگ یانگ نظر ثانی کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کِم جونگ اُن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات منسوخ کرنے کی دھمکی

خیال رہے کہ آئندہ ماہ جون میں امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان تاریخی ملاقات متوقع ہے، جس میں امکان ہے کہ پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیار ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حالتِ جنگ کے باوجود کوریائی سربراہان امن قائم کرنے پر متفق

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم رہنما کِم جونگ اُن سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن ڈیمار کیشن لائن عبور کرکے پہلی مرتبہ جنوبی کوریا پہنچے تھے جہاں انہوں نے شمالی و جنوبی کوریا کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

بعدِ ازاں 29 اپریل کو جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مئی میں شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کے تجربات کرنے کی سائٹ بند ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا نے رواں ماہ کے آخر میں بین الااقوامی میڈیا کی موجودگی میں اپنی جوہری تنصبات کو تباہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔