سندھ میں شہریوں کی جبری گمشدیوں کے خلاف متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کی۔

وائس فار مسنگ پرسنز کی رہنما صورت لوہار نے دعویٰ کیا کہ ‘صوبے بھر سے 60 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں اور ان کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب کے باہر سے قانون نافذ کرنے والے افراد نے بھوک ہڑتال کیے ہوئے چار شہریوں کو اٹھا لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں میں چند افراد سادہ لباس تھے۔

گرفتار افراد کی شناخت زاہد بگٹی، جانی پنہور، الطاف شاہ اور اسحٰق منگریوں کے نام سے ہوئی۔

ایس ایس پی کراچی جنوبی سرفراز نواز شیخ کا کہنا تھا کہ پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر سے کسی بھی فرد کو گرفتار نہیں کیا۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر قوم پرست تنظیموں سمیت سندھی ادبی سنگت، عوامی جمہوری پارٹی اور دیگر نے بھی بھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے۔