میانمار سیکیورٹی فورسز نے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ساحلی پٹی (بفرزون) پر پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کو فوری جگہ خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پناہ گزینوں نے بتایا کہ میانمار فوج نے دوبارہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات شروع کردیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار کی فوج کا روہنگیا مسلمانوں کے قتل کا اعتراف

واضح رہے کہ میانمار فوج کی قتل و غارت سے بچ کر 6 ہزار پناہ گزین بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ساحلی پٹی پر آباد ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تقریباً 7 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار فوج کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے بنگہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ چند ہزار کی تعداد نے دونوں ممالک کی سرحدوں کے درمیان بفرزون میں رہنے پر اکتفا کیا۔

اس سے قبل فروری میں میانمار نے آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بفرزون میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش جانے پر مجبور نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: ’میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو واپس بلانا چاہیے‘

اس ضمن میں میانمار فوج نے اپنے چند اہلکاروں کو مذکورہ جگہ سے واپس بلایا تھا تاہم رواں ہفتے دوبارہ لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

روہنگیا کمیٹی کے رہنما نے بتایا کہ ‘میانمار فوج کے اعلانات سے بفرزون میں مقیم پناہ گزینوں میں سخت تشویش پھیل گئی ہے’۔

محمد عارف نامی شخص نے بتایا کہ ‘میانمار فوج نے گزشتہ روز متعدد مرتبہ اعلان کیا اور اگلی صبح بھی اسی پیغام کو دوہرایا جس کی وجہ سے کیمپ میں افراتفری پھیل گئی ہے اور لوگ بہت پریشان ہیں’۔

میانمار فوج کی جانب سے جاری اعلانات میں کہا گیا کہ ‘میانمار کا یہ علاقہ فوری خالی کردو ورنہ مقدمے کا سامنے کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ’۔

یہ پڑھیں: میانمار،روہنگیا مہاجرین کی واپسی پر تیار ہے،بنگلہ دیشی وزیر کا دعویٰ

کمیپ میں رہائش پذیر دل محمد نے کہا کہ ‘ہم میانمار کے شہری ہیں، وہ ہمارے آباؤ اجداد کی زمین ہے اور ہمیں یہاں رہنے کا پورا حق ہے اور ہم یہاں سے نقل مکانی کرکے کیوں دوسری جگہ جائیں’۔

اعلانات میں روہنگیا مسلمانوں کو ‘بنگالی’ کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے، میانمار کی قوم پرست بدھ مت اکثریت روہنگیا کو ‘بنگالی’ قرار دیتے ہوئے انہیں بنگہ دیش کا شہری تصور کرتی ہے۔


یہ خبر 21 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی