آج زمین پر جو زندگی موجود ہے وہ سورج ہی کی بدولت ہے کیونکہ یہ پودوں سے لے کر انسانوں تک کو نشوونما بخشتا ہے۔

سورج ہی کی روشنی سے پودوں میں فوٹوسینتھیسز کا عمل، جو کہ ایسا کیمیائی عمل ہے جس میں پودے فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور روشنی حاصل کر کے گلوکوس اور آکسیجن بناتے ہیں، فضا میں آکسیجن کو خارج کرتے ہیں لیکن کیا سورج ہمارے لئے ہمیشہ فائدہ مند ہی ثابت ہوا ہے یا جان لیوا بھی ہے؟

بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ سورج تو زمین سے تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے لہذا اس کی حرارت ہی زمین تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کا یہ بھی موقف ہوتا ہے کہ جیسا کہ سورج پر ہر لمحے بہت سے دھماکے ہو رہے ہیں تو وہی سب سے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں لیکن سورج اور زمین کے بیچ خلا ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی خبر بھی نہیں، لہذا سورج سے ہم زمینی باشندوں کو بِنا کسی نقصان کے صرف فائدہ ہی ہے لیکن یہ سوچنا غلط ہے!

جیسا کہ آج ہم جانتے ہیں کہ سورج اس نظام شمسی کے پہلے چار سیاروں (عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ) کی طرح ٹھوس سطح نہیں رکھتا بلکہ یہ مختلف گیسوں سے مل کر بنا ہے۔ ان گیسوں میں سب سے زیادہ ہائیڈروجن اور ہیلیم موجود ہے۔ انہی دو گیسوں کی وجہ سے سورج میں "فیوین ریکشنز" ہو رہے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں فیوین ریکشن ایسے کیمیائی عمل کو کہتے ہیں جس میں ہائیڈروجن کے ایٹم ملتے ہیں اور ان سے نئے ہیلیم اور ہائیڈروجن ایٹم وجود میں آتے ہیں۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں انتہائی کثیر تعداد میں انرجی بھی خارج ہوتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6000 ڈگری سیلسیس ہے۔

سورج کا درجہ حرارت جاننے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حالت میں تو زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی زمین پر زندگی موجود کیوں ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین سورج سے ایک مخصوص فاصلے پر ہے جہاں سورج سے آنے والی روشنی کا درجہ حرارت اتنا کم ہو جاتا ہے کہ جو زندگی کی نشوونما کے لئے مفید ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اس فاصلے کو "قابل حیات حلقہ" یا "ہیبیٹیبل زون" بھی کہتے ہیں۔

جیسا کہ مضمون کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ سورج گیسوں سے مل کر بنا ہے تو یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سورج کی کشش اتنی زیادہ ہے کہ اس میں موجود اپنے ہی ایٹم اس کے مرکز کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ باہری ایٹم مرکز کے قریب موجود ایٹموں پر قوت لگاتے ہیں جس کے نتیجے میں ایٹم ایک دوسرے کو پھاڑ دیتے ہیں اور اب وہ ایٹم نہیں رہتے بلکہ ان پر نیگیٹو یا پازیٹو چارج آجاتا ہے۔ لہذا سورج انہی چارجز کا آمیزہ ہے۔

آج ہم سب جانتے ہیں کہ بجلی اور میگنیٹک فورس کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، مطلب کہ اگر کسی تار میں سے بجلی گزر رہی ہو تو اس کے گرد میگنیٹک فیلڈ بھی موجود ہوگی۔ اسی طرح سورج میں موجود ان چارجز کی ایک سے دوسری جگہ حرکت کی وجہ سے (جس کو سائنسی اصطلاح میں کرنٹ کہا جاتا ہے) اس حلقے میں میگنیٹک فیلڈ بھی وجود میں آتی ہیں۔ یہی میگنیٹک فیلڈ جیسے ہی سورج کی باہری سطح تک پہنچتی ہے تو ایک دم اتنی طاقت خارج کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے سورج کا پلازما، جوکہ مادے کی ایسی قسم ہے جس میں چارجز موجود ہوتے ہیں، خلا میں بہت تیزی سے نکلتا ہے اور سورج کے آس پاس پھیل جاتا ہے۔ لیکن کیا ہو کہ اگر یہ قوت اتنی زیادہ ہو کہ یہ مادہ سورج سے اربوں کلومیٹر دور تک پھیل جائے؟

جی ہاں! ایسا بہت بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سورج کی میگنیٹک فیلڈ کی وجہ سے اتنی طاقت پیدا ہوتی ہے کہ یہ مادہ زمین، چاند، مریخ اور باقی سیاروں تک، جو کہ سورج سے بہت دور ہے، پہنچ جاتا ہے۔ اس مادے کو، جو کہ بہت سے چارجز کا مجموعہ ہوتا ہے، "سولر ونڈس" یا شمسی ہوائیں بھی کہا جاتا ہے۔ جب سورج اتنی زیادہ قوت سے یہ مادہ خلا میں پھینکتا ہے تو اسے فلکیاتی اصطلاح میں "سولر سٹرام" یعنی شمسی طوفان کا نام دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں زمین ان شمسی ہواؤں کے نشانی پر تھی اور یہ ہوائیں زمین سے 5 اور 6 مئی 2018 کو ٹکرائی تھیں۔ ان ہواؤں سے بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ زمین کی اپنی بھی میگنیٹک فیلڈ ہے جو اس کے گرد ایک "میگنیٹک کرّہ" بناتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسی کی وجہ ہم ان شمسی ہواؤں سے بچے رہتے ہیں۔ اگر یہ میگنیٹک فیلڈ نہ ہوتی (جس طرح مریخ اور چاند کی میگنیٹک فیلڈ بہت کم ہے) تو یہ سولر ونڈس فضا کو ختم کر دیتی اور زمین پر زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔ زمین کے قطبین پر یہ میگنیٹک فیلڈ بہت زیادہ ہے اور انہی جگہوں پر یہ شمسی ہواؤں میں موجود چارجز زمین کی میگنیٹک فیلڈ سے ملتے ہیں۔ اس ملنے کے نتیجے میں آسمان میں رنگ برنگی روشنیاں نظر آتی ہیں جن کو "اورورا" یا "نورتھرن لائٹس" بھی کہتے ہیں۔ یہ لائٹس شمالی اور جنوبی قطبین میں نظر آتی ہیں۔

ان شمسی ہواؤں کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے چارجز جیسے ہی زمینی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو مختلف سگنلنگ کا نظام خراب کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے بہت سی سیٹیلائٹس سے زمینی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ ان سیٹیلائٹس میں جی۔ پی۔ ایس۔ سسٹم، ٹیلی ویژن سیٹیلائٹس، مواصلاتی سیٹیلائٹس شامل ہیں۔ ان شمسی ہواؤں سے بجلی کی تاروں میں پاور زیادہ بھی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی بڑے فیڈرز ٹرپ کر جاتے ہیں۔ 1959 میں اسی طرح کا ایک شمسی طوفان جب زمین سے ٹکرایا تھا تو ان علاقوں میں بجلی کا نظام درہم بھرم ہوگیا تھا جو جہاں اس وقت دن تھا۔

بہرحال سورج جہاں زمین پر زندگی پیدا کرنے والا ہے وہیں اس کے کچھ منفی اثرات بھی زمین پر مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی سورج سے حاصل ہونے والے فائدے نقصانات سے بہت کم ہیں۔