بھارتی وزیر دفاع نرمالا سیتا رامن کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستانی حکام کی ’امن کی چاہت‘ کے لیے ہر رائے کو ’سنجیدگی‘ سے لے گا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیتارامن نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امن کی چاہت کے لیے کسی بھی رائے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا‘۔

بھارتی وزیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اپریل میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشمیر تنازع کے امن کے ساتھ حل پر جامع اور معنی خیز مذاکرات کا کہا تھا۔

مزید پڑھیں:

پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کی مکمل سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اظہار کرتا ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے 'ہمارا یہ یقین ہے کہ کشمیر سمیت پاک-بھارت تنازعات کا حل صرف بامقصد مذاکرات سے حاصل ہوگا'۔

بھارتی وزیر دفاع نے رمضان کے مہینے میں بھارتی قابض کشمیر میں سیز فائر معاہدے کے ساتھ کھڑے رہنے کے سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’وزارت دفاع ہوم منسٹری کی بھارت کی جانب سے کیے گئے اعلان کی پوری طرح سے پاسداری کرے گا‘۔

خیال رہے کہ ان کا یہ بیان ورکنگ باؤنڈری پر دو روز قبل بھارتی جارحیت کے بعد سامنے آیا جس کے نتیجے میں 4 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ جارحیت پخلیان، چاپرار، ہڑپال، چاڑواہ اور شکر گڑھ سیکٹرز میں کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی ہوم منسٹری نے اعلان کیا تھا کہ کشمیر میں حکومتی فورسز کو رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کو ایک امن کا ماحول دینے کے لیے بغاوت کے خلاف آپریشن کو روک دیا گیا ہے۔