اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان المبارک میں ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر 8 چینلز کو نوٹسز جاری کردیئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مختلف ٹی وی چینلز اس طرح کے پروگرام نشر کر رہے ہیں جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔

اس پر ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے متعلقہ ٹی وی چینلز اور اینکر پرسنز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت بدھ 23 مئی تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: ’رمضان میں کسی چینل پر کوئی نیلام گھر اور سرکس نہیں ہوگا‘

خیال رہے کہ 9 مئی کو اسلام آبائی ہائی کوٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ایک فیصلہ دیا گیا تھا، جس میں ٹی وی چینلز کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ رمضان المبارک میں لاٹری، جوا اور سرکس جیسے پروگرامز پر پابندی ہوگی۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں پیمرا کی گائیڈ لائن کے برخلاف کوئی پروگرام نشر نہیں ہوگا اور تمام پروگرامز کی سخت نگرانی کی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ تمام چینلز اس بات کو یقینی بنائیں کہ پروگرام کے میزبان اور مہمان کی جانب سے رمضان المبارک کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

مختصر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ رمضان المبارک میں تمام چینلز 5 وقت مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اذان مقامی وقت کے مطابق نشر کریں گے، اس کے علاوہ مغرب کی اذان ( یعنی افطار کے وقت) سے 5 منٹ قبل تک کوئی اشتہار نہیں چلایا جائے گا بلکہ درود شریف اور پاکستان کے استحکام، سلامتی اور امن کے لیے دعا کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پورنو گرافی روکنے سے متعلق حکومتی اقدامات کی رپورٹ طلب

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کوئی لاٹری اور جوا پر مشتمل پروگرام، یہاں تک کے حج اور عمرے کے ٹکٹس کے حوالے سے بھی کسی چیز کو براہ راست یا ریکارڈیڈ نشر نہیں کیا جائے گا، اس کے علاوہ نیلام گھر اور سرکس جیسے پروگرامات لازمی رکنے چاہئیں۔

اس کے علاوہ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی مواد، خاص طور پر بھارتی ڈارمے، اشتہارات اور فلموں پر پابندی ہوگی جبکہ صرف 10 فیصد غیر ملکی مواد ضابطہ اخلاق کے تحت نشر کرنے کی اجازت ہوگی اور اس میں ریاست اور اسلام مخالف چیزوں کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔

عدالت میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت، ساحر لودھی، فہد مصطفیٰ اور وسیم بادامی کو خبر دار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو تاحیات پابندی لگا دیں گے۔