کراچی جو اِک شہر تھا (پہلا حصہ)

ای میل

خیرپور میرس سے صبح کی چلی ہوئی ریل گاڑی سارا دن سندھ کے زرعی میدانوں میں دوڑتے دوڑتے جب کوٹری سے آگے کوہستانی ویرانوں میں داخل ہوئی تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ 70 کی دہائی میں شاید ریل گاڑیاں چلتی بھی آہستہ تھیں، اسی لیے کراچی پہنچتے پہنچتے خاصی رات ہوگئی۔ کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پر جب عبدالرحمٰن کیہر اپنی بیوی اور 5 بچوں کے ساتھ لشٹم پشٹم اترے تو رات کے 11 یا 12 بج رہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اتنی رات گئے اسٹیشن سے باہر نکلنے کے بجائے یہ رات وہیں ریلوے اسٹیشن کے مسافر خانے میں گزاری جائے۔

عبدالرحمٰن صاحب کے بچے، جنہوں نے پہلی مرتبہ اتنا طویل سفر کیا تھا، ہیجان سے ان کی نیند غائب تھی اور وہ اسٹیشن کے ویران پلیٹ فارم پر یہاں سے وہاں دوڑیں لگا رہے تھے۔ امّی نے مسافر خانے کے فرش پر دری بچھا کر ان کے سونے کا انتظام تو کردیا تھا، لیکن جب وہ سوئیں۔ اسٹیشن کے قریب سمندر سے ٹھنڈی ہواؤں کے فرحت بخش جھونکے آرہے تھے اور اس ہوا سے لطف اندوز ہونے والے اس نو وارد خاندان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ سمندری ہوا ہے۔ بالآخر بچے سوگئے۔

صبح سویرے چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ایک بچہ سب سے پہلے بیدار ہوا۔ اس نے باقی سب لوگوں کو نیند میں پایا تو خود ہی اٹھا اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتا ہوا اسٹیشن کی عمارت کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے ڈرتے ڈرتے ایک قدم باہر نکالا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ یہ ایک چوڑی گلی تھی جس کے دونوں طرف اونچی عمارتیں تھیں، لیکن اس مختصر سی گلی کے آخر میں شاید ایک زیادہ چوڑی سڑک تھی جس پر صبح کے دھندلکے میں اکا دکا بگھی گزرتی نظر آتی تھی اور اس کے گھوڑوں کی ٹپاٹپ مدھم سروں میں یہاں تک پہنچ رہی تھی۔

کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن۔
کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن۔

اس چوڑی سڑک کے کنارے ایک اتنی اونچی بلڈنگ آسمان کی طرف سر اٹھائے کھڑی تھی کہ جو اس بچے نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ بچہ ڈر کے مارے اس عمارت کی آخری منزل دیکھنے کے لیے سر پوری طرح اٹھائے بغیر سراسیمہ سا ہوکر واپس اسٹیشن کی محفوظ حدود میں داخل ہوگیا۔ خیرپور کے مختصر سے پُرسکون شہر سے اس عروس البلاد کی طرف آنے والے اس بچے کی یہ کراچی پر پہلی نظر تھی۔


سعید نے کشتی کے عرشے پر آکر فضا کا جائزہ لیا۔ طوفان کا زور رات کسی وقت ٹوٹ چکا تھا۔ آسمان نیلا اور شفاف ہو رہا تھا۔ مشرق سے ابھرنے والے سورج کی چمک دار روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ افق تا افق پھیلا فیروزی سمندر پُرسکون تھا۔ مشرق کی طرف جہاں آسمان اور سمندر مل رہے تھے وہاں ایک سیاہ حاشیہ ابھر رہا تھا۔ یہ زمین تھی۔ ساحل رفتہ رفتہ قریب آ رہا تھا۔ سعید نے خدا کا شکر ادا کیا۔ وہ مسقط کا ایک چھوٹا تاجر تھا۔ اس بار وہ بڑی مقدار میں تازہ کھجوریں لے کر سندھ کا قصد کرکے نکلا تھا۔ کل کے طوفانی موسم نے ملاحوں کو نڈھال کردیا تھا۔ مگر آج شفاف اور روشن آسمان تلے فر فر چلتی خوشگوار ہوا سے کشتی کے بادبان خوب پھولے ہوئے تھے۔ ان کی کشتی تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کھڑک بندر کا گھاٹ اب قریب ہی تھا۔ اچانک مستول کی بلندی سے چمٹا ہوا ایک ملاح چلایا۔

’آقا سعید!..... بندرگاہ تو صاف نظر آر ہی ہے..... مگر وہاں کوئی جہاز نظر نہیں آرہا۔ بندرگاہ خالی ہے۔‘

’بندرگاہ خالی ہے؟...... یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘ سعید بڑ بڑایا۔

’اچھی طرح دیکھو۔‘ وہ ملاح کی طرف منہ کرکے چیخا۔ ملاح نے ہتھیلی کو پھر ماتھے پر جمایا، آنکھیں میچیں اور دوبارہ غور سے ساحل کی طرف دیکھنے لگا۔ مگر وہاں کوئی جہاز ہوتا تو نظر آتا۔

کشتی آہستہ آہستہ تیرتی ہوئی بندرگاہ میں داخل ہوگئی۔ لیکن یہ کیا؟سب کے منہ حیرت سے کھل گئے۔ واقعی وہاں کوئی جہاز نہیں تھا۔ بندرگاہ ویران تھی اور ہر طرف ریت اڑتی پھر رہی تھی۔ بوسیدہ اور متروک کشتیوں کے ڈھانچے ریت پر اوندھے سیدھے پڑے تھے۔ ملاحوں کی ویران جھونپڑیاں بھوتوں کے بسیرے معلوم ہوتی تھیں۔ اچانک ان جھونپڑیوں میں سے 2 آدمی برآمد ہوئے اور کنارے کی طرف بڑھنے لگے۔

کراچی میں زیر تعمیر حبیب پلازہ کا ایک منظر۔
کراچی میں زیر تعمیر حبیب پلازہ کا ایک منظر۔

’قاسم! تم فوراً ان لوگوں کے پاس جاؤ۔ معلوم کرو کہ کیا ماجرا ہے۔‘ سعید نے ایک ملاح کو حکم دیا۔ قاسم نے فوراً پانی میں چھلانگ لگائی اور تیزی سے تیرتا ہوا کنارے کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں آدمی ساحل کے پاس آکر رک گئے تھے اور اچنبھے سے قاسم کو قریب آتا دیکھ رہے تھے۔


حب ندی جس مقام پر بحیرہ عرب میں گرتی تھی وہاں سمندر کا نمکین پانی ندی کے خاصے اندر تک گھس آیا تھا۔ سمندری پانی کی یہ خلیج کشتیوں اور جہازوں کی محفوظ لنگر اندازی کے باعث ایک بہترین بندرگاہ بن گئی تھی۔ یہ گھاٹ ’کھڑک بندر‘ کے نام سے مشہور تھا اور خطے کے لیے ایک بین الاقوامی بندرگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کھڑک بندر سے جزیرہ نمائے عرب، براعظم افریقہ، ہندوستان اور چین کے علاقوں تک تجارت ہوتی تھی۔ زمینی راستوں سے یہ تجارت ایک طرف ملتان اور دوسری طرف قلات اور کوئٹہ سے آگے قندھار اور ثمر قند و بخارا تک پھیلی ہوئی تھی۔ مگر پھر ہوا یوں کہ حب ندی میں کئی سال مسلسل اتنے سیلاب آئے کہ اس کا دہانہ کیچڑ اور ریت سے اٹ گیا۔ یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ بندرگاہ میں آنے والے جہاز اس مٹی میں دھنسنے لگے۔ رفتہ رفتہ تجارتی جہاز دھنسنے کے خوف سے کھڑک بندر میں داخلے سے ہی کترانے لگے۔

دوسری طرف ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر ’شاہ بندر‘ کا گھاٹ بھی سندھ کی ایک اہم بندرگاہ تھا، مگر یہاں بھی دریا کے مسلسل رخ بدلنے سے بندرگاہ رفتہ رفتہ دلدل بنتی جا رہی تھی۔ یہاں کے مقامی تاجروں کے لیے بھی یہ صورتحال بڑی تشویشناک تھی۔ بالآخر شاہ بندر کے تاجروں کا ایک وفد کھڑک بندر کو روانہ ہوا تاکہ وہاں کے تاجروں سے صلاح و مشورہ کیا جائے۔ کھڑک بندر کے تاجر تو پہلے ہی پریشان تھے۔ کھڑک بندر کی ابتر صورت حال کی وجہ سے ان کی افریقہ، عربستان، چین اور ہندوستان تک پھیلی وسیع تجارت پہلے ہی خطرے میں تھی۔

کھڑک بندر کا معروف تاجر سیٹھ بھوجومل شاہ بندر کا حال سن کر مزید پریشان ہوا۔ چنانچہ شاہ بندر کے وفد سے مشورہ کرکے اس نے اپنے کارندے آس پاس کے ساحلوں پر کسی ایسی جگہ کی تلاش میں دوڑائے جہاں کنارہ گہرا بھی ہو اور طوفانوں سے بھی محفوظ ہو تاکہ جہاز آسانی سے لنگر انداز ہوسکیں اور مستقبل میں ریت سے اٹ جانے کا بھی امکان نہ ہو۔

پرانا قلعہ کراچی۔
پرانا قلعہ کراچی۔

شاہ بندر اور کھڑک بندر کے ان تاجروں کی یہ تلاش آخرکار ایک ایسے شہرِ دل پذیر کے آباد ہونے کا باعث بن گئی جس کا وجود اُس وقت تک دنیا کے نقشے پر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے جو جگہ تلاش کی وہ ایک بندرگاہ کے لیے انتہائی موزوں تھی۔ یہ 25، 20 جھونپڑوں پر مشتمل مچھیروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں ’دِربو‘ تھا کہ جو لیاری ندی اور بحیرہ عرب کے مقام اتصال پر تھا۔ اس کے شمال میں املی کے درختوں سے گھرا ہوا برساتی پانی کا ایک تالاب تھا جسے لوگ ’کولاچی جوکن‘ کہتے تھے، یعنی کولاچی کا تالاب۔

دربو کے ساحل کی خوبی یہ تھی کہ یہاں سمندر گہرا بھی تھا اور کنارے کے عین سامنے 2 جزیروں ’کیماڑی‘ اور ’منوڑہ‘ کی وجہ سے یہ ایک خلیج جیسا بن گیا تھا۔ یوں جہاں یہ گہرائی کی وجہ سے جہازوں کی بلا خوف و خطر آمد و رفت کے لیے موزوں تھا، وہیں سامنے موجود جزیروں کی ڈھال نے اسے سمندری طوفانوں سے بھی محفوظ کر رکھا تھا۔ لیاری ندی بھی یہاں سے کافی فاصلے پر شمال میں گرتی تھی۔ اس لیے یہ اس کے سیلابی ریلوں میں آتی کیچڑ مٹی سے بھی بچا ہوا تھا۔ یہ جگہ دیکھ کر مقامی تاجروں کو اپنے وسوسوں اور پریشانیوں سے نجات ملتی نظر آئی اور وہ تصور میں اس معمولی سے گاؤں کو مستقبل کی نئی بین الاقوامی بندرگاہ کے طور پر دیکھنے لگے۔


’آقا سعید، یہ دونوں آدمی بتا رہے ہیں کہ کھڑک بندر کو ختم کردیا گیا ہے۔ نئی بندرگاہ یہاں سے قریب ایک گاؤں دربو میں بن رہی ہے۔‘

سعید کا ملاح کھڑک بندر کے ساحل پر موجود آدمیوں سے معلومات لے کر آیا تھا۔ سعید کو کچھ اطمینان ہوا۔ ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں ان کی کشتی نئی بندرگاہ کے قریب پہنچ گئی۔ منوڑہ کے پیچھے سے گزر کر وہ جزیرہ کیماڑی کے سامنے دربو کے ساحل پر پہنچے تو وہاں ایک زبردست گہما گہمی ان کی منتظر تھی۔ ہرطرف چھوٹی بڑی کشتیاں تیرتی پھر رہی تھیں، کچھ بڑے جہاز بھی لنگر ڈالے کھڑے تھے اور ساحل پر ایک بڑی فصیل تعمیر ہو رہی تھی۔ سعید اپنے جہاز سے اترا اور سیدھا بڑے سیٹھ کے پاس پہنچ گیا۔

1940ء کی دہائی میں کراچی کا ایک منظر۔
1940ء کی دہائی میں کراچی کا ایک منظر۔

سیٹھ نے پہلے تو اسے کھڑک بندر کے خاتمے کی وجوہات بتائیں پھر نئی بندرگاہ کی حفاظت کے لیے تعمیر کی جانے والی فصیل کے بارے میں بتانے لگا۔

’یہ اتنے سارے مزدور آپ کو کہاں سے مل گئے؟‘ سعید فصیل پر کام کرتے ہوئے بے شمار مزدوروں کو دیکھتے ہوئے بولا۔

’نئی بندرگاہ کا سن کر قریب اور دور کے بے شمار دیہاتوں سے لوگ یہاں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔‘ سیٹھ نے کہا۔ ’یہ لوگ یہاں بندرگاہ کی تعمیر سے بہت خوش ہیں اور ہر کام میں دل و جان سے ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ہم انہیں معاوضہ بھی اچھا دیتے ہیں۔‘

’کیا معاوضہ لیتے ہیں یہ لوگ؟‘ سعید دلچسپی سے بولا۔

’مسقط کے سکّے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ویسے کھجوریں بھی بڑے شوق سے لیتے ہیں۔‘ سیٹھ نے جواب دیا۔

کھجوروں کا سننا تھا کہ سعید کی باچھیں کھل گئیں۔ کھجوروں سے تو اس کا جہاز بھرا ہوا تھا اور مسقط کے سکوں کی بھی اس کے پاس کمی نہ تھی۔ اس نے اپنی کھجوروں کا سارا ذخیرہ اور اپنے پاس موجود سارے سکّے سیٹھ کے حوالے کردیے۔ سعید کا یہ سامان ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ ان کے بدلے میں اسے مویشیوں کی کھالیں مل گئیں، جن کی مسقط میں اسے اچھی قیمت ملنے کی توقع تھی۔

1930 کی دہائی میں ڈی جے کالج کا ایک منظر۔
1930 کی دہائی میں ڈی جے کالج کا ایک منظر۔

سعید کے لیے یہاں ایک خوشخبری اور بھی تھی۔ فصیل کی حفاظت کے لیے 4 توپیں بھی درکار تھیں اور توپیں مسقط میں بہت عمدہ بنتی تھیں۔ یہ آرڈر بھی سعید کو ہی مل گیا۔ دربو کی اس نئی بندرگاہ سے جب وہ روانہ ہوا تو بے حد مسرور تھا۔ اب وہ جلد از جلد مسقط پہنچا چاہتا تھا۔ اس کے پاس وقت بہت کم تھا۔ فصیل کے مکمل ہونے سے پہلے اسے توپیں لے کر واپس یہاں پہنچنا تھا۔


’کولاچی جوکن‘ کی نسبت سے نئے آنے والوں نے اسے ’دربو‘ کے بجائے ’کولاچی‘ کہنا شروع کیا۔ کولاچی کے غریب ملاح خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ انہیں غربت کے دن ختم ہوتے نظر آتے تھے۔ یہ سال 1729ء تھا۔ فصیل کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی۔ من پسند اجرت پانے والے مزدوروں نے خوشی خوشی اور تیزی سے سارا کام پایہءِ تکمیل تک پہنچا دیا تھا۔ فصیل میں 2 دروازے رکھے گئے تھے۔ ایک بندرگاہ کی طرف کھلتا تھا اور سمندر کا کھارا پانی اس دروازے کے عین سامنے تھا۔ یوں کھارے پانی کی طرف کھلنے والا یہ دروازہ ’کھارا در‘ کہلایا۔ دوسرا دروازہ لیاری ندی کی طرف تھا جہاں میٹھا پانی بہتا تھا اور اسی وجہ سے اسے ’میٹھا در‘ پکارا گیا۔

وقت گزر گیا۔ نہ وہ فصیل رہی نہ وہ دروازے، مگر آج ’کھارا در‘ اور ’میٹھا در‘ نامی گنجان محلے کراچی کے باسیوں کو اس فصیل کی یاد دلاتے رہتے ہیں جو اس شہر کی ابتداء تھی۔

کولاچی کی بندرگاہ نے شاہ بندر اور کھڑک بندر دونوں کو بے نشان کردیا۔ اس کے ابتدائی آبادکار انہی دونوں بندرگاہوں کے تاجر اور ان کے ملازم تھے۔ رفتہ رفتہ کولاچی بھی زبان کے رد و بدل سے ’کراچی‘ بن گیا۔ اپنی ابتداء سے آج تک، کراچی کی عمر 3 صدیوں سے بھی کم بنتی ہے۔ صرف چند نسلیں۔ برصغیر کے تمام بڑے شہروں میں سے شاید ہی کسی کی تاریخ اتنی مختصر ہو۔

نئی بندرگاہ کراچی کچھ ہی عرصے میں حیدرآباد کے کلہوڑہ حکمرانوں کے قبضے میں آگئی۔ پھر کلہوڑوں اور خان آف قلات کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوئی۔ خان آف قلات کے چند بھائی اس جنگ میں کلہوڑوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ جب صلح ہوئی تو ان بھائیوں کے قصاص میں کراچی کو خان آف قلات کے حوالے کردیا گیا۔ مگر پھر 1797ء میں سندھ کے میر فتح علی خان تالپور نے شہر پر چڑھائی کردی۔ یوں کراچی خان آف قلات سے چھن کر تالپوروں کے پاس آگیا۔

1930ء کی دہائی میں وکٹوریہ روڈ۔
1930ء کی دہائی میں وکٹوریہ روڈ۔

دیسی حکمرانوں کی یہ آنکھ مچولی اور چھینا جھپٹی جاری ہی تھی کہ بدیسی حکمراں آگئے۔ کراچی کا پہلا سروے سیاح کے بھیس میں ایک انگریز کرنل پوٹنجر (Col. Pottinger) نے کیا۔ وہ 1832ء میں کراچی آیا۔ اس وقت شہر کی آبادی صرف 8 ہزار تھی۔ انگریز ویسے تو پورے ہندوستان میں قدم جما چکے تھے لیکن سندھ ابھی باقی تھا اور سندھ کا یہ شہر کراچی اپنی روز افزوں ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث خاصی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔

1841ء میں چارلس نیپئر (Charles Napier) نے انگریز فوج کی قیادت کرتے ہوئے کراچی میں لنگر ڈال دیئے اور پھر ریشہ دوانیوں اور چالبازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 2 سال کے اندر اندر سندھ کا الحاق بھی ہندوستان کی انگریز حکومت سے ہوگیا۔ اس مرحلے کے فوراً بعد نیپئر نے کراچی کو سندھ اور پنجاب کی بندرگاہ کے طور پر ترقی دینے کا کام شروع کردیا۔ اس کی دوربیں نگاہوں نے کراچی کا تابناک مستقبل دیکھ لیا تھا۔ 8 سال بعد کراچی سے رخصت ہوتے ہوئے چارلس نیپئر نے کہا تھا

’You will yet be the glory of the East, would that I could come again, Kurrachee, to see you in your grandeur.’

کراچی کی تعمیر و ترقی میں سندھ کے انگریز گورنر بارٹل فریئر (Bartle Frere) نے اہم کردار ادا کیا۔ بندرگاہ کی جو صورت آج ہمارے سامنے ہے، یہ شروع میں اس سے بالکل مختلف تھی۔ اس وقت سارے جہاز اس جگہ لنگر انداز ہوتے تھے جہاں آج کسٹم ہاؤس کی عمارت ہے۔ یہ بندرگاہ چونکہ اپنی قدرتی شکل میں تھی اس لیے اسے نیٹو جیٹی (Native Jetty) کہا جاتا تھا۔ فریئر نے جزیرہ کیماڑی سے نیٹو جیٹی کے سامنے تک مٹی سے بھرائی کروائی اور ایک پل تعمیر کرکے کیماڑی اور کراچی کو آپس میں ملا دیا۔ اس پل کو آج تک ’نیٹی جیٹی‘ پل کہا جاتا ہے۔

نیٹی جیٹی کا پرانا پل۔
نیٹی جیٹی کا پرانا پل۔

1940ء کی دہائی میں ایمپریس مارکیٹ۔
1940ء کی دہائی میں ایمپریس مارکیٹ۔

اس بھرائی سے بندرگاہ میں مزید توسیع ہوگئی اور اسے ایسٹ وہارف (East Wharf) یعنی مشرقی بندرگاہ کا نام دیا گیا۔ ایسٹ وہارف کے سامنے کا کنارہ ایک جزیرہ نما کی طرح منوڑہ تک چلا گیا تھا۔ اس کنارے کو ویسٹ وہارف (West Wharf) یعنی مغربی بندرگاہ بنا دیا گیا۔ پھر منوڑے کا مشرقی کنارا پختہ کرکے بندرگاہ کو مزید محفوظ کردیا گیا۔اب سمندر کا پانی منوڑہ سے آگے آکر ایسٹ وہارف اور ویسٹ وہارف کے بیچ میں ایک خلیج کی طرح داخل ہوتا اور نیٹی جیٹی پل کے نیچے گزر کر بوٹ بیسن تک چلا جاتا۔

بندرگاہ میں آنے والے جہاز پہلے منوڑہ اور کیماڑی کے درمیان سے گزرتے اور پھر سیدھے ایسٹ وہارف اور ویسٹ وہارف کے درمیان میں آکر اپنی مخصوص برتھ پر لنگر انداز ہوجاتے۔ یہی نقشہ آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نیٹی جیٹی کا پل نیا ہوکر ’جناح برج‘ بن گیا ہے۔

گورنر بارٹل فریئر کے لیے بندرگاہ کی تعمیر کے بعد دوسرا اہم مرحلہ کراچی کو بذریعہ ریل سارے ہندوستان سے ملانا تھا تاکہ سامان تجارت کی باآسانی ترسیل ہوسکے۔ اس وقت ریلوے لائن اندرون ہندوستان سے صرف ملتان تک آتی تھی۔ ملتان اور ٹھٹھہ کے درمیان 700 میل کے فاصلے میں دریائے سندھ کے ذریعے صرف کشتیاں ہی مال برداری و مسافر برداری کرتی تھیں۔ 1856ء میں برطانیہ سے ایک انجینئر جان برنٹن (John Brunton) کو بلوایا گیا جو افریقہ میں ریلوے لائن بچھانے کا تجربہ رکھتا تھا۔ یہاں جان برنٹن کو کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن ڈالنے کا کام سونپا گیا۔ برنٹن ان بیابانوں میں 2 سال تک سروے کرتا رہا اور بالآخر 1859ء میں لائن بچھانے کا کام شروع کردیا۔

1930 کی دہائی میں کراچی جیم خانہ۔
1930 کی دہائی میں کراچی جیم خانہ۔

1930 کی دہائی میں صدر کا علاقہ۔
1930 کی دہائی میں صدر کا علاقہ۔

2 سال میں کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن مکمل ہوگئی اور ریل گاڑی نے چلنا شروع کردیا۔ بعد میں جب کوٹری اور ملتان کے درمیان بھی ریلوے لائن ڈل گئی تو کراچی پورے ہندوستان سے بذریعہ ریل منسلک ہوگیا۔ جان برنٹن کی بچھائی ہوئی ریلوے لائن آج تک استعمال ہو رہی ہے۔ کراچی میں آج بھی ایک چھوٹی سی سڑک جان برنٹن کے نام سے منسوب ہے۔ یہ سڑک چیف منسٹر ہاؤس اور پرانی امریکن کونسلیٹ کے درمیان کلفٹن روڈ اور ضیاء الدین احمد روڈ کو ملاتی ہے۔

قیامِ پاکستان سے پہلے کراچی صوبہ سندھ کا صدر مقام تھا، لیکن 1948ء میں یہ حیثیت حیدرآباد کو دے دی گئی اور کراچی کو پاکستان کا دارلحکومت بنا دیا گیا۔ 1956ء میں جب ون یونٹ کا نفاذ ہوا تو لاہور دارالخلافہ بنا، مگر 1963ء میں دارالخلافہ اسلام آباد منتقل کردیا گیا اور 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے پر کراچی پھر سندھ کا صدر مقام بن گیا۔

قیام پاکستان کے وقت کراچی کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ تھی۔ اس وقت یہ برِصغیر کا سب سے زیادہ صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد بھارت سے ہجرت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کو اپنے رہنے کے لیے منتخب کیا، یوں 1951ء میں اس کی آبادی 11 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اپنی غریب پرور صفات اور روزگار کی بہتات کے باعث یہ ملک بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا رہا اور آج منی پاکستان کہنے والے اس شہر کی آبادی تقریباً 2 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

1940ء کی دہائی میں بندر روڈ۔
1940ء کی دہائی میں بندر روڈ۔

1930 کی دہائی میں میری ویدر ٹاور کی کھینچی گئی ایک تصویر۔
1930 کی دہائی میں میری ویدر ٹاور کی کھینچی گئی ایک تصویر۔

آج یہ شہر لاکھوں گاڑیوں اور بے تحاشا ٹریفک کے باعث معروف ہے، جبکہ قیامِ پاکستان کے وقت یہ ٹریفک محض گھوڑا گاڑیوں، اونٹ گاڑیوں، بیل گاڑیوں اور گدھا گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ آج کی عالی شان کاروں کی جگہ اس وقت گھوڑوں والی بگھیاں استعمال ہوتی تھیں۔ اس وقت پورے شہر میں صرف 8 بسیں تھیں۔ شہر کی سڑکوں کا مقام اتصال ’میری ویدر ٹاور‘ تھا اور سڑکوں میں سب سے اہم بندر روڈ تھی جو اب ایم اے جناح روڈ کہلاتی ہے۔ یہ سڑک مزارِ قائد کے سامنے سے شروع ہوکر ریڈیو اسٹیشن، جامع کلاتھ مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ کے سامنے سے ہوتی ہوئی ٹاور پہنچتی ہے اور پھر نیٹی جیٹی پل سے ہوتی ہوئی کیماڑی پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔ گلوکار احمد رشدی مرحوم نے برسوں قبل اسی سڑک کے لیے مشہور گیت گایا تھا

بندر روڈ سے کیماڑی، میری چلی رے گھوڑا گاڑی، بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

کھارا در، میٹھا در، لیاری، کیماڑی، رنچھوڑ لائن، سولجر بازار، گارڈن اور لی مارکیٹ قدیم آبادیاں تھیں جبکہ شہر کی پہلی ہاؤسنگ اسکیم 1851ء میں کلفٹن میں 12 بنگلوں کی تعمیر سے شروع ہوئی تھی۔ پاکستان بنتے وقت کراچی کی حدود مغرب میں سینٹرل جیل تک، شمال میں لیاری اور جنوب میں جیکب لائنز تک تھیں۔ جیل کے ارد گرد جہاں اب دور دور تک گنجان آبادی ہے، جنگل تھے، جن میں تیتروں کا شکار ہوتا تھا۔ سائٹ کے علاقے میں بھیڑیئے پائے جاتے تھے اور لیاری میں کھڑے پانی کے تالابوں میں بطخیں شکار کی جاتی تھیں، جبکہ آج جس جگہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی ہے، یہاں پرموجود جنگل تو ایک باقاعدہ شکارگاہ تھا۔


حوالہ

کراچی کی کہانی (2): شمارہ نمبر021: آج