اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا اور گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر دفاع و خارجہ امور خرم دستگیر خان، وزیر خزانہ و اقتصادی امور مفتاح اسمٰعیل، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ اور سینئر سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: فاٹا انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور

کمیٹی نے فلسطینیوں پر اسرائیل کے بہیمانہ ظلم کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے فاٹا اور گلگت بلتستان میں اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

شرکاء نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے وہاں کے عوام کی خواہشات پوری ہوں گی اور علاقے کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے ترقی کا عمل شروع ہوگا، جبکہ فاٹا اور گلگت بلتستان میں اصلاحات سے قومی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وزارت داخلہ نے قومی سلامتی کمیٹی کو نئی ویزہ پالیسی پر بریفنگ دی جس کا مقصد پاکستان کو سیاحت اور کاروبار کے لیے سازگار ملک بنانا ہے۔

شرکاء نے وزارت داخلہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ تمام معاون نظام، ڈیٹابیسز اور تصدیقی نیٹ ورک موجود اور مکمل آپریشنل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ویزا آن ارائیول‘ پالیسی پر موجودہ اور سابق وزیر داخلہ آمنے سامنے

کمیٹی نے ’ویزہ آن ارائیول‘ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرنے کی منظوری دی۔

اجلاس میں عالمی و علاقائی تبدیلیوں کے پاکستان پر اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جیو پولیٹیکل صورتحال میں تبدیلیوں کے مطابق مؤثر سفارتکاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔