وفاقی حکومت، قومی اسمبلی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ختم

اپ ڈیٹ جون 01 2018

ای میل

اسلام آباد: وفاقی حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد رات 12 بجے ختم ہوگئی جس کے بعد قومی اسمبلی تحلیل ہوگئی اور شاہد خاقان عباسی بطور اٹھارویں منتخب وزیر اعظم 10 ماہ خدمات انجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب وفاقی حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے، اس سے قبل 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی تھی۔

نگراں سیٹ اپ آج سے ملکی معاملات سنبھالے گا، نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک ایوان صدر میں ہونے والی پروقار تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جبکہ رخصت ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔

حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل اور نگراں حکومت کے قیام سے 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

قبل ازیں وزارت پارلیمانی امور نے 31 مئی 2018 کی رات بارہ بجے 14ویں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مدت پوری کرتی اسمبلی اور کمزور ہوتی جمہوریت

قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے سے متعلق وزارت پارلیمانی امور نے نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت جاری کیا۔

نوٹی فکیشن کی کاپیاں وزیر اعظم آفس، ایوان صدر، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھیج دی گئی ہے۔

انتخابات کے شیڈول کا اعلان

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات کے حتمی شیڈول کا اعلان کردیا۔

انتخابی شیڈول کے مطابق یکم جون کو پبلک نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں عوام کو انتخابی شیڈول کے باضابطہ آغاز سے متعلق بتایا جائے گا۔

نوٹس کے جاری ہونے کے بعد تمام امیدوار کاغذات نامزدگی حاصل کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 55 دن کا انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ

کاغذات نامزدگی 2 سے 6 جون تک جمع کرائے جا سکیں گے، 7 سے 14 جون تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

شیڈول کے مطابق 19 جون تک کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی جا سکیں گی،26 جون تک اپیلوں پر فیصلے کیے جائیں گے،27 جون تک امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست آویزاں کی جائے گی،28 جون تک کاغذات نامزدگی واپس لیے جا سکیں گے جبکہ29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے جس کے بعد امیدوار اپنی انتخابی مہم چلا سکیں گے۔