اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ 7 جون کو اسلام آباد میں پانی کی قلت سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی، عدالت عظمیٰ کی کراچی اور لاہور رجسٹریز معاملے کی بالترتیب 9 اور 10 جون کو سماعت کرے گی، جبکہ چیف جسٹس پانی کی قلت سے متعلق پشاور اور کوئٹہ رجسٹریز میں بھی سماعت کریں گے۔

سپریم کورٹ نے 7 جون کے لیے سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے دارالحکومت میں پانی کی کمی سے متعلق جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پانی کی قلت اور نئے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ کی 20 سال پُرانی درخواست پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پانی کی قلت کی باتوں میں کوئی سچائی نہيں؟

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ہم پانی کی اسی صورتحال کو دیکھتے رہیں گے تو مر جائیں گے، پاکستان کی 20 فیصد شرح ترقی پانی پر منحصر ہے، 48 سال ہو گئے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا۔

چیف جسٹس نے کہا یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے اور ہم پانی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بھارت کی جانب سے نئے ڈیم کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا جس سے نیلم جہلم خشک ہوگیا، ہم نے اگر اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بن رہا ہے، ماہرین

جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں، پانی کے ایشو سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں۔